یہ خوف کی فضاٸیں ہیں

( محمد ادریس قریشی )

یہ خوف کی فضاٸیں ہیں

یہ بے وفا اداٸیں ہیں

ہر ایک دمت شور ہے

بَلاٸیں ہی بَلاٸیں ہیں

ہر ایک شخص دُور ہے

یہ دَور کی جفاٸیں ہیں

زمین کی یہ بے بسی

فلک سے کچھ سزاٸیں ہیں

نظر میں اپنی ہر طرف

خطاٸیں ہی خطاٸیں ہیں

یہ قید کس طرح کی ہے

کہ جس میں کچھ شفاٸیں ہیں

بغیر رنگ و نسل کے

دعاٸیں ہی دعاٸیں ہیں

Comments are closed.