عالمی آسیب

( سید تابش الوری )

عالمی آسیب

ہلاکر رکھدئیے ہیں زندگی کے تانے بانے

بلادِ چین سے یورپ تلک اک زلزلہ ہے

تہہ و بالا زمانے کی معیشت ہو گئی ہے

کرو نا عالمی آسیب بن کر چھا گیا ہے

غیبی قوت

کوئی تو ہے جس کے آگے ہم سب بے بس ہو جا تے ہیں

کیسے وبائیں آ جا تی ہیں ؟ کیسے تباہی ہو تی ہے؟

اس کی پُر ا سر ار سزا کی، خیر و جزا کی کس کو خبر

غیبی قو ت کی اپنی منصو بہ بندی ہو تی ہے

Comments are closed.