بقا کی جنگ

( شمسہ نجم )

عجب دن ہیں

وبا کی حکمرانی ہے

فنا کو کس پسِ منظر میں لکھیں اب

یہ کیسا وائرس پیدا ہوا ہے اب

جو اپنی معنویت کا وجودی رنگ پھیلانے لگا ہے اب

حدوں کو روح کی چھو کر پراگندہ بنانے پر تلا ہے اب

ہمیں تو عالمی جنگوں کی دہشت تھی

بہت سے لوگ مر جاتے

نہیں اب جنگ کے آثار تک لیکن

فلو، طاعون یا ہیضے پہ قابو پا لیا ہے جب

کرونا وائرس دنیا مٹانے پر تلا ہے اب

گلی کوچوں میں لاشوں کے مناظر بھی نہیں لیکن

نجانے کیوں یہ لگتا ہے

در و دیوار پر ہیں وائرس چپکے

فضا میں چھائی وحشت ہے

عجب سی ایک دہشت ہے

رگوں میں تو سرایت کر چکی ہے وہ

ہماری ہڈیوں میں بھی اترتی جا رہی ہے اب

دلوں میں کیسی ویرانی سی بڑھتی جا رہی ہے اب

زیادہ بے تکلف دوستی سے خوف آتا ہے

کریں کیا آدمی کو آدمی سے خوف آتا ہے

کبھی پہلے کہاں اتنا جراثیموں سے ڈرتے تھے

مگر اب حضرتِ انسان تیری بے بسی سے خوف آتا ہے

گھروں میں رہنے کا اب حکم ہے سب کو

کسی سے ہاتھ اپنا ہم ملانے تک سے ڈرتے ہیں

گلے ملنا بہت ہی دور کی اب بات لگتی ہے

قیامت سے بھی پہلے اک قیامت ہے

محبت کے قرابت کے سبھی رشتے

ہوئے محدود اور بے دم

بڑھی ہیں دوریاں باہم

رہیں گے دور اب تو سب

سبھی اپنے پیاروں سے

سمندر کے کناروں سے

ہے پابندی حکومت کی طرف سے اب

کسی ہوٹل میں جانے پر

وہاں پر جا کے کھانے پر

کہیں بھی آنے جانے پر

بہت ملنے ملانے پر

ہے پابندی تجارت کے مراکز پر

دفاتر پر اداروں پر

سبھی باغات تفریحی مقاموں پر

سبھی جگہوں پہ ظالم موت رقصاں ہے

کہیں اب ریز گاری میں چھپا ہو وائرس کوئی

کرنسی نوٹ تک سے زندگی کو خوف آتا ہے

عجب ویرانی چھائی ہے

ہوئی ہیں گلیاں سونی

ہوئے سنسان رستے سب

ذرا تو دیکھ آنکھوں سے

اترنے جو لگی ہے موت دنیا پر

تجھے ہے یہ گماں غالب

تو مخلوقات میں افضل

خدا خود کو سمجھتا ہے

ذرا تو دیکھ لے اوقات اپنی اب

مگر سچ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی وائرس یا کوئی بھی طاقت

دلوں سے کیا محبت ختم کر دے گی

دلوں سے کیا محبت کو مٹا دے گی

اگر سچ مچ محبت ہے

تجھے یہ یاد رکھنا ہے

محبت تو حقیقت میں دلوں میں گھر بناتی ہے

مصیبت میں ہو گر انسان تو جینا سکھاتی ہے

یہ اک جامع حقیقت ہے

محبت کے سبھی رشتوں کو ناطوں کو

نبھانے کے لیے تجھ کو ابھی زندہ بھی رہنا ہے

اسی امید پر دنیا بھی قائم ہے

بڑی ہمت سے تجھ کو کام لینا ہے

بقا کی جنگ لڑنی ہے

ضروری ہے یہ لازم ہے

تجھے دنیا بچانی ہے

Comments are closed.