اے ميرے وطن ، اہل وطن

سنو جانآ

بہلا کر اپنى پيچہى ہم
کہ دل کى ہر محبت کو
تيرى زرنوش چاہت کو
پرانى دوستى اپنى
سبى مہبوب رشتون سے
ہمين اس سيمت جانا ہے
سر فہرست نہبانا ہے
ټہرنا ہے نہي ايک پل
وہان پے زيست ہے بے کل
ہمين اس سيمت جانا ہے
جہان پے راہ تکتى ہين
کسى کى دکہ برى انکہين
تړپتى ہين وہ آرزوين
اسى کے سيمت جانا ہے
کہ دہړکني بلاتى ہين
وہ آوازين چلاتى ہين
ميرے جى کوجلاتى ہے
سنو جانا
کہ تيرے ګلشن معمار ہين
تيرى بقا پے ہم
زرہ زرہ
لہو کا ايک ايک قطرہ
لټاينګے
تيرے سر پے سجاينګے
نہباينګے
چلے جانا خوشى رہنا
کہلى رہنا سکہى رہنا
بلاءين ټوټ جاءينګى
صداءين ګنہګآءينګى
بہارين پہر سے آءينګى
يہ مجہپے قرض ہے تيرا
کہ ايسا فرض ہے ميرا
سنو جانا ،

Comments are closed.