ہَوا چلے گی

( ظہور چوہان )

ابھی گھٹن ہے

ابھی تو سانسیں رُکی ہوئی ہیں

بدن میں ہلچل مچی ہوئی ہے

اک اضطرابی ہے چار جانب

پرندے اُڑتے نہیں شجر سے

کہ لوگ ڈرنے لگے ہیں گھر سے

پتہ نہیں ہے بدلتی رُت کا

ہَوا چلے گی کہ حَبس ہوگا

کہیں یقیں ہے ، کہیں گماں ہے

اِسی میں ٹھہرا ہوا جہاں ہے

مگر یہ دل کو اُمید بھی ہے

ہَوا چلے گی

کُھلے گا موسم

تو لوگ گھر سے نہیں ڈریں گے

سکوں ملے گا تھکے بدن کو

بحال ہوں گی تڑپتی سانسیں

اُڑیں گے پیڑوں سے سب پرندے

مہک اُٹھے گا جہان سارا

Comments are closed.