راستے ہو گئے ہیں سب خالی

( ظہور چوہان )

راستے ہو گئے ہیں سب خالی

لو ! سڑک ناپ لو ، یہ اب خالی

اپنی مرضی جہاں اُٹھیں بیٹھیں

گھر میں ہم رہ کئے ہیں جب خالی

موت سے بڑھ کے خوف کون سا ہے

ورنہ ہوتے ہیں شہر کب خالی

جھونپڑی ہو کہ عالی شان محل

کوئی کرتا ہے بے سبب خالی

حالانکہ پہلے بھی مَیں تنہا تھا

شہر لگتا نہیں تھا تب خالی

اُڑ گئے ہیں سبھی پرندے ظہؔور

کیسے لگتے ہیں پیڑ اب خالی

Comments are closed.