اندھیری رات بڑھتی جارہی ہے

(ناصر محمودناصرؔ)

اندھیری رات بڑھتی جارہی ہے
زمیں غم سے سکڑتی جارہی ہے
قیامت ہے ،نہیں اس کا سماں ہے
وہی دنیا ہے کیا یہ وہ جہاں ہے
پرندے خوف سے تھرا رہے ہیں
ہزاروں لوگ مرتے جارہے ہیں
تہِ افلاک لاشوں کے پرے ہیں
چرندے اورپرندے سب ڈرے ہیں
سبھی پُر خوف ہیں غم کی گھڑی ہے
یہاں ہر اک کو اب اپنی پڑی ہے
عوام الناس، تیرے خاص تر بھی
صدائے کن کے سارے منتطر ہیں
لبادے آنسوؤں سے تر بہ تر اور
اسی سپریم ترسے کہہ رہے ہیں
خدائے لم یزل ہم کو بچا لے
ناصر محمودناصرؔ کرونا کو زمیں سے اب اٹھا لے

Comments are closed.