دے رہا ہے دستکیں در پر کوئی

(شہاب صفدر)

دے رہا ہے دستکیں در پر کوئی
کہہ رہا ہوں میں نہیں گھر پر کوئی

مطمئن ہوں یوں کہ حافظ ہے خدا
ہے کھڑا خنجر بہ کف سر پر کوئی

خود کشی ہے جرم لیکن انحصار
کیا کرے اب لاؤ لشکر پر کوئی

. مرنے والے کون تھے کیا نام تھا
سخت جاں لکھے گا پتھر پر کوئی

اے شہاب آنکھیں ہیں نم اور منتظر
میں ادھر،،، ،، شہراہ ِ اخضر پر کوئی

Comments are closed.