حوصلہ رکھنا

( ڈاکٹر محمد اشرف کمال )

ملو ضرور مگر ہم سے فاصلہ رکھنا

کہ دور ہی سے محبت میں رابطہ رکھنا

ہجومِ شہر سے خود کو علاحدہ رکھنا

کہ ہر طرف سےخود اپنا محاصرہ رکھنا

خود اپنی ذات کے محبس میں بیٹھ کر تنہا

خیال یار سے دن بھر مکالمہ رکھنا

دوا سے کام نکلنا اگر نہ ہو ممکن

لبوں پہ حرف کوئی صورتِ دعا رکھنا

وبا کے دور میں ہمت سے کام لینا ہے

کہ امتحان ہو جیسا بھی حوصلہ رکھنا

جو تنگدست ہیں ان کی مدد ضروری ہے

کہ بےکسوں کے لیے اپنا دل کھلا رکھنا

ہر ایک شہر میں لوگوں کی خیر ہو یارب

ہر ایک شاخ پہ محفوظ گھونسلا رکھنا

Comments are closed.