بحکم ربیّ وبا ٹلے گی

( عائشہ مسعود )

بحکم ربیّ وبا ٹلے گی
عائشہ مسعود
خدا سبھی سے خفا ہوا ہے
وہ نسل آدم کے ہرقبیلے سے ہی خفا ہے
کہا ہے اس نے کہ لوٹ جائو
نہیں ضرورت عبادتوں کی
خدانے ہم سے ہر اک مقدس مقام خالی کرا لیا ہے
ہمیں ہمارے ہی گھر کے اندر کی حد میں رہنا سکھا دیا ہے
تو اب اجازت نہیں ہے ہم کو
گلی گلی دندنا تے پھرنا
اِدھرلپکنا ، اُدھر جھپٹنا
اِدھر سے اُٹھنا اُدھر کو گرنا
جہا ن بھر کے ہی کجکلاہوں کو ایک نشہّ تھا طاقتوں کا
نظر نہ آئی وہ سوختہ جاںسلگتی دنیا
فسردگی کو ترستی دنیا بلکتی دنیا
وہ چپ کے پہرے میں سب مباحث بھی گم ہوئے تھے
کہاں کہاں تک منافقت کے نہ بیج ہم نے اُگا دیئے تھے ؟
دعا کرو اب کہ اپنے سر سے بلا ٹلے گی
بحکم ربی وبا ٹلے گی
تو زندگی کے نئے سفر میں
وہ لوگ سارے جو بے جنازہ ہی دفن کرنے اٹھالیے تھے
جوبن دکھائے دبا دیئے تھے
یہ بحث بھی اور نئے مباحث
سوال سارے جواب سارے جو منجمند ہیں
انہیں اگر پھر سے چھیڑنا ہے
تو زندگی کی دعا کرو تم …
خدا سبھی سے خفا ہوا تھا

Comments are closed.