زمیں کے آسمانو

( عامر جلیل بوبرہ )

ابے اوُ سائنسدانو !
زرا تو سوچو ناں، ابے یہ دیکھو ناں، کہیں سے روکو ناں
زمیں کے بچے تو مر رہے ہیں
اجڑ رہے ہیں، بکھر رہے ہیں ، بچھڑ رہے ہیں
زمیں کے بچے تو مر رہے ہیں
اپنی پینٹیم گیری چھیڑو
سینٹیم ، فینٹیم ، ایٹم ، کوائنٹم
الفآ، بیٹآ ، گاما چھوڑو
ہبل گھماوُ ، زندگی لاوُ
سپر سونک ، ھائپر سونک ، میگا ٹرانکس
جیٹ ، جہاز ، میزائیل چلاوُ
زندگی لاوُ ۔زمیں کے بچے تو مر رہے ہیں
پنڈت ، ملاں ، سادھو، بھکشو
پادری ، راہب ، جوتشی ، جوگی
عامل ، کامل ، پیر ، پروہت
آپ بھی اپنا منتر پڑھ لو
ہو سکتا ہے؟تو کچھ کر لو
آپ ہی کوئی چراغ جلاوُ۔۔زندگی لاوُ۔
کرونا قاتلوں کے شہر سے آیا سندیسہ ہے
یہ شیطانوں کا بچہ ہے ، یہ شیطانوں نے سینچا ہے
خدا قاتل نہیں ہے یہ انسانوں دھندہ ہے

Comments are closed.