آٹھواں دن ہے

(ثاقب ندیم)

دیواریں ہیں
دیواروں میں خاموشی کے
چھوٹے چھوٹے در کھلتے ہیں
کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں ہی میں ہوں
کمرے کے ہر کونے میں۔۔۔ میںَ
دروازے کے سوراخوں سے
اندر جھانکتی آنکھوں میں۔۔۔ میںَ
یہ دیکھو۔۔۔۔۔ یہ نیچے دیکھو
یہ میں نیچے پڑا ہوا ہوں
اپنے ہی دعوں کے نیچے
اپنے ہی خوابوں کے نیچے
دس اور دس کا شہر بساۓ
(چودہ دن کی عمر ہے جس کی)
تعبیروں کے کھوج میں کھویا
پڑا ہوا ہوں اور کتابیں
ڈھیر کی صورت گھیرا ڈالے
گھور رہی ہیں سات دنوں سے
پینا ڈول کی مالا جپتے
تین تال پہ سولہ ماترے پورے کرتے
دس اور دس کے اس کمرے میں
دن بیتا ہے
سینی ٹائزر کہاں پڑا ہے۔۔۔؟
ہاتھوں کو اتنا دھویا ہے
نکھر گئے ہیں
نادانی میں، بے دھیانی میں
آنکھیں ملتے رات ہوئی ہے
آٹھواں دن ہے
ہر اک دن میں سو سو سال
جیا ہے میں نے
لمبی عمروں کا جرمانہ
دو ہفتے کا قارنطینہ
کان لگا کر
دور سے آتی کومل ِتیور آوازوں پر
آٹھویں دن میں دھڑک رہا ہوں

Comments are closed.