احوال

(حلیم قریشی)

شکست آثار لمحوں سے
ہوا کے زرد جھو نکوں سے
اکیلے شہر کی ویران گلیوں سے
کسی بکھرے ہوےء
بے خواب موسم کی کہانی سے
کہیں خود سے
کہیں آوازہء شب کی روانی سے
کبھی اس کی خبر پوچھیں
کبھی اپنا پتہ پوچھیں

Comments are closed.