پھیلتی وبا کے مدنظر وبا کا سُن کے سبھی گھر میں چُھپ کے بیٹھ گئے

(ندیم ملک)

پھیلتی وبا کے مدنظر وبا کا سُن کے سبھی گھر میں چُھپ کے بیٹھ گئے پرند چیخ رہے ہیں شجر پہ بیٹھے ہوئے تمہیں تو عقل ہے بیٹھو گھروں میں چھپ جاو صدائیں دیتے ہیں کچھ لوگ دل کو زخمائے خدایا تری کرامت سے مر رہے ہیں لوگ گھروں میں بیٹھے ہوئے منزلوں کو جاتے ہوئے یہ آخری میری امیّد رائگاں تو نہیں جھجک جھجک کے مجھے مل رہے ہیں اندیشے ہر ایک چہرے پہ سلوٹ پڑی ہوئی ہے ندیم ہوا نے چیر دیے ہیں یہ بند دروازے

Comments are closed.