ہم قرنطینہ میں ہیں

(سجاد اظہر)

ہم قرنطینہ میں ہیں
جس روز کاغذ ایجاد ہوا تھا
اس روز دنیا سے اعتبار اٹھ گیا تھا
لوگ اب روایتوں کی بجائے
لکھے ہوئے مستند حوالے مانگتے تھے
آٹے کے بدلے کپڑا نہیں دیتے تھے
بدلے میں روپیہ مانگتے تھے
نیکی کو دریا میں ڈالنے کی بجائے
اس کا دام طلب کیا جاتا تھا
اور جو دام نہیں دے سکتا تھا
اس کا لاک ڈاؤن کر دیا جاتا تھا
حد تو یہ تھی کہ سب عبادتیں بھی
کاغذ کی محتاج کر دی گئ تھیں
اس سے پہلے کہ کاغذی انسان
خدا کی حیثیت بھی کاغذی کر دیتا
خدا نے فیصلہ کیا کہ وہ دنیا میں
اپنے گھر کو تالا لگا دے
اور اس کاغذی دنیا کو
قرنطینہ میں ڈال دے

Comments are closed.