یہ کیسا ستمگر اشارہ ہوا ہے

(شفقت عاصمی)

یہ کیسا ستمگر اشارہ ہوا ہے
بہاروں میں گُل سے کنارا ہوا ہے

اے جانِ جہاں خوف کا ہے یہ عالم
ترے بِن بھی رہنا گوارا ہوا ہے

یہ ہر سُو خموشی یہ تنہائی ، وحشت
سفر بے بسی کا ستارا ہوا ہے

کہ نوچا ہے فطرت کو انساں نے بے حد
اسی واسطے تو خسارہ ہوا ہے

کہ ہے آسماں ، دھرتی سب کے برابر
سمجھ لو ، اشارہ دوبارا ہوا ہے

وہ آتا ہی ہوگا ذرا دیر میں بس
کہ میں نے خدا کو پکارا ہوا ہے

نئی سوچ ہوگی ، نیا دور ہوگا
یہ اُمید اپنا سہارا ہوا ہے

اگر بچ گئے عاصمیؔ اس وبا سے
نیا اک جہاں پھر ہمارا ہوا ہے

Comments are closed.