جب پھول کھلیں گے ہاتھوں پر

(ازہر ندیم)

جب پھول کھلیں گے ہاتھوں پر
جب خوشبو رنگ بکھیرے گی
اس خواب کا موسم دور نہیں
جب لمس کی کومل سی تتلی
اترے گی ہر اک ماتھے پر
جب دیپ جلیں گے آنکھوں میں
جب آس کی ننھی سی یہ لو
ہر سمت اجالے لاۓ گی
وہ خواب کا موسم آۓ تو
اک یاد کو دل میں بھر لینا
یہ وعدہ خود سے کر لینا
یہ خوشبو رنگ ہوا تتلی
اس دنیا کی تعبیریں ہیں
جو سب کی سانجھی دنیا ہے
ہر انساں اس کا مالک ہے
یہ سانسیں ایک امانت ہیں
یہ ہونا سب کا ہونا ہے
جب پھول کھلیں گے ہاتھوں پر
جب خوشبو رنگ بکھیرے گی
اس خواب کا موسم دور نہیں

Comments are closed.