وبا کے دنوں میں موت کی ریہرسل

(سدرا سحر عمران)

صرف پہلی نظم اپلوڈ کرنی ہے۔

وبا کے دنوں میں موت کی ریہرسل

…….

تنہائی کے جوتے پہنے

ہم سیکنڈ ہینڈ قبروں میں رہ رہے ہیں

ہمیں اکیلے پن کی مشینوں میں ڈال کر

سکھایا جارہا ہے

کہ موت سے جنگ ہوجائے تو

کمر پر گولی کھا کر میدان سے بھاگنا نہیں ہے

ہمارے سینے پرچم کی طرح

لہرا رہے ہیں

برسات کا موسم نہیں

مگرموت پوری شدتوں کے ساتھ

تمام شہروں پربرس رہی ہے

ہم اپنی اپنی قبروں میں پڑے سوچتے ہیں

زندگی کی ریاضی میں

فقط نفی کی مشقیں کیوں ہوتی ہیں

ہماری آنکھیں دن بھردیواروں پر

صرف جنازہ گاہیں پینٹ کرتی رہتی ہیں

اگرچہ ہمارے ساتھ

کسی کی آنکھیں نہیں جائیں گی

نہ کوئی مسکراہٹ

نہ الوداعی بوسہ

“کوئی کرفیو جیسی موت بھی مرتا ہے”

آج سے پہلےیہ سوال

کہیں پیدا نہیں ہوا تھا

ہم صرف اپنی آنکھوں سے زندہ رہ کر

اپنے آپ کو باتوں میں لگائے ہوئے ہیں

جانے کب یہ رابطہ منقطع ہو

اور ہم سیکنڈ ہینڈ قبرو ں سے

پلاسٹک کے تھیلوں میں منتقل ہوجائیں!!

Comments are closed.