امن کے خلق کے استعارے بنو

(رانا عبدالرب)

امن کے خلق کے استعارے بنو
چاند ہے یہ وطن سب ستارے بنو

منزلت ایک ہو آن بان ایک ہو
جسم جتنے بھی ہیں سب کی جان ایک ہو
وقت کا ہے تقاضہ کہ سب چھوڑ کر
سارے انسانیت کے سہارے بنو

ہم نے مرنا نہیں اور نہیں ہارنا
گھر میں رہ کر کرؤنا کو ہے مارنا
آزمائش کی گھڑیاں گزر جائیں گی
ایک دوجے کی خاطر کنارے بنو

امن کے سلسلے کو روانی ملے
حسن_اخلاق کو تازہ پانی ملے
ہم وطن دوستو ہے یہی التجا
پیار بانٹوں سبھی کے پیارے بنو

لمحہ لمحہ بھروسے کی جو موج ہے
اصل میں وہ مرے ملک کی فوج ہے
جسکی نسبت سے پائندہ ہیں ہر گھڑی
صرف اک دو نہیں اسکے سارے بنو

یہ وطن جان ہے جاں سے پیارا بھی ہے
اسکی مٹی کا اک نام تارا بھی ہے
نوجوانوں سے عبدل ہے یہ استدعا
ملک کی عظمتوں کے سپارے بنو

Comments are closed.