زندگی بچانا ہے کرونا کو مِٹانا ہے

(ذوالفقارعلی خان)

زندگی بچانا ہے کرونا کو مِٹانا ہے
نہ ہی ہاتھ مِلانا ہے نہ گلے لگانا ہے
تھوڑے عرصے کیلئے فاصلہ بڑھانا ہے
گھر میں وقت گُزاریئے باہر نہیں جانا ہے
بیس سیکنڈ تک اپنے ہاتھ دھونا اور دُھلانا ہے
پورا دِن یہی عمل بار بار دُھرانا ہے
ہر قِسم کُوڑا کرکٹ جلانا ہے جلانا ہے
صفائی نصف ایماں ہے یہ اُصول اپنانا ہے
اِنسانیت کی ہے خِدمت اپنا فرض نبھا نا ہے
جو ہیں نا سمجھ اُنہیں پیار سے سمجھانا ہے
مُشکل آ پڑی ہے گر مُشکل کو نمٹانا ہے
عوام سے ہے اِلتجا جاگنا اور جگانا ہے
کرونا کو مِٹانے میں سارا زور لگانا ہے
اُمیدِ زیست کا پیغام ہر جگہ پھیلانا ہے
حِکمت اور تدبّر سے وباء پہ قابو پانا ہے
اے رحیم ، کریم خُدا سب پر کرم فرمانا ہے
آئینگے وہ دِن علؔی پھر سے چہچہانا ہے
پھر سے مُسکرانا ہے پھر سے جِھلملانا ہے

Comments are closed.