موت ہمیں گلیوں گلیوں ڈھونڈتی رہے گی

(فاطمہ مہرو)

A Poem in times of Corona:

On Death Bed

موت ہمیں
گلیوں گلیوں
ڈھونڈتی رہے گی
اور ہم اِس سے آنکھ مچولی کھیلتے
بہار کے بچے کُھچے لمحے
گزارنے کی سعی میں
ایک دوسرے کو لمبی فون کالز پر
بوسوں کے تبادلوں کے منصوبے
ترتیب دیتے رہیں گے

وہ ہمیں ڈھونڈتی اِدھر آ نکلے
اور ‘Hide’ کی باری ہماری ہو
پھر بھی ہم اپنے محبوب کو
بسترِ مرگ پر
جنونی خطوط لکھنے سے باز نہ آئیں گے

ہم چاہیں گے
کوئی شدید پیاس کا مارا ہمیں
شیشے کے پار سے جھانکتا رہے
چاہتا رہے
کہ ہم موت کی بانہوں سے اُس کی بانہوں میں
باحفاظت منتقل کر دیے جائیں

ہم چاہیں گے
کوئی یار ہمارا
یہاں وہاں سے نظر چُرا کر
آنکھ مارتے ہوۓ
ایک سُلگا سگرٹ ہماری طرف اچھال دے
ایک سنہری لمحہ اپنے پاس سنبھال لے

ہم چاہیں گے
اونچی ایک آواز لگائیں
اور اپنے سپنوں کی لمبی لسٹ سنائیں
یہ سب سُن کر سارے لوگ خموش ہو جائیں
اور ہمیں ماضی کی طرح پھر خبطی سمجھا جاۓ

ہم چاہیں گے
ہم بدلے کی آگ جلائیں
اور پھر اُس میں اپنے سچ اور جھوٹ سے کُندن ہار بنائیں
جس جس نے ہم کو روگ لگایا
اِس بستر سے بھاگیں، جا کر اُس کو مل کے آئیں
اور دکھائیں دُکھتی رَگ کا رُوپ سروپ

ہم چاہیں گے
کوئی ہمیں ملنے نہ آۓ
اور ہم چھت کو کتنے ہی گھنٹے
یہ سب سوچے، تکتے جائیں

موت ہمیں آواز لگاۓ
اِس سے پہلے
ہم پھر ” اُس” سے ملنے جائیں
اور اُسے زندگی کے ساتھ مصروف پا کر
روتے روتے واپس آئیں
اک آخری بار بھر پُور مُسکرا کر
موت کی آغوش میں سو جائیں !

Comments are closed.