تبدیلی

(نبیلہ اشرف)

تبدیلی

میرے شہر کےلوگ اب حساس ہو گئے

وقت کےملتے ہی سخن شناس ہو گئے

جو اپنے ہی رب سے بہت دور تھے کہیں

وہ مصیبت کے آنے پہ بہت پاس ہو گئے

چارسو خاموشیوں کے نظاروں کو دیکھ کر

گلشن میں کھلے پھول بھی اداس ہو گئے

عر صئہ دراز تک ایک ہی شخص کو تک کر

گھر کے درو دیواربھی بد حواس ہو گئے

فہم و فراست کے دیے بجھ گئے جب سب

امید کے چراغ ہر کسی کو راس ہو گئے

Comments are closed.