نوید زیست

(شہزاد بیگ)

برسر پیکار جو انسان ہے
یہ نوید ۔ زیست کا عنوان ہے

حوصلہ بننا ہے سب کا دوستو!
ہاتھ میں رکھنا ہمیں قرآن ہے

سب حفاظت کرلیں اپنی جان کی
موت کا بکھرا ہوا سامان ہے

اب نہیں ڈرنا ہے ہم کو موت سے
نقش دل پر سورہ ۔ رحمن ہے

رحمت۔باری کی مانگو اب دعا
موت کا ہر سو لگا میدان ہے

اب تو لازم ہوگئی ہے اختیاط
موت کے پنجے میں آئی جان ہے

ملک کے سارے اداروں کو سلام
عزم و ہمت کی یہی پہچان ہے

خلق کی خدمت کرو دن رات اب
میرے اللہ کا یہی فرمان ہے

Comments are closed.