

(اسلام آباد پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام توسیعی کلیدی خطبات کے سلسلے کی تیسری نشست بعنوان "اردو کی شعری روایت اور تصوف" آن لائن زوم اور فیس بک لائیو کے ذریعے منعقد ہوئی۔ اس علمی نشست میں ملک بھر اور بیرونِ ملک سے اہلِ علم، ادبا,محققین، اساتذہ اور طلباو طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقعے پر ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، محقق اور ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے توسیعی خطبہ پیش کیا جب معروف شاعر، نقاد اور دانشور احمد جاوید نے صدارتی خطاب فرمایا۔ نشست کی نظامت ممتاز شاعر و محقق اور سابق ناظمِ اعلیٰ اکادمی جناب سلطان ناصر نے کی۔ اپنے توسیعی خطبے میں پروفیسرڈاکٹر معین نظامی نے اردو شاعری اور تصوف کے تاریخی و فکری ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اردو ادب پر فارسی زبان و ادب کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انھوں نے حکیم سنائی، شیخ فرید الدین عطار، مولانا جلال الدین رومی، سعدی شیرازی، حافظ شیرازی اور فخرالدین عراقی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان بزرگ شعرا و صوفیا کے افکار نے برصغیر کی شعری روایت کو نئی جہات عطا کیں۔ انھوں نے کہا کہ زبانیں اور تہذیبیں ایک دوسرے سے مسلسل اثر قبول کرتی رہتی ہیں اور اردو شاعری بھی اسی فکری و تہذیبی تعامل کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر معین نظامی نے مزید کہا کہ مولانا روم کی مثنوی اور دیگر صوفیانہ متون برصغیر کے دینی و ادبی نصاب کا اہم حصہ رہے ہیں، جب کہ پنجابی ادب میں سیف الملوک اور دیگر صوفیانہ داستانوں نے عوامی شعور اور تہذیبی مزاج کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر معین نظامی نے واضح کیا کہ اردو کے ابتدائی ادبی سرمائے میں فارسی تراجم اور فارسی روایت کا گہرا اثر موجود ہے۔ ولی دکنی اور دیگر ابتدائی شعرا نے تصوف کو اردو شاعری کا مؤثر اور مرکزی موضوع بنایا، جب کہ کلاسیکی دور میں میر تقی میر نے صوفیانہ فکر کو شعری لطافت اور فنی جمالیات کے ساتھ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ مرزا غالب نے تصوف کو محض موضوع کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری روایت کے طور پر برتا اور اسے اعلیٰ ادبی سطح پر پیش کیا۔ ڈاکٹر معین نظامی نے اپنے خطبے میں علامہ اقبال کی صوفیانہ فکر اور فکری روایت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال کی شاعری محض سیاسی یا فکری تحریک نہیں بلکہ ایک گہری روحانی و صوفیانہ اساس رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے تصوف کو محض خانقاہی روایت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے خودی، عشقِ حقیقی اور انسان کی باطنی قوت کے احیاء سے جوڑا۔ ان کے مطابق اقبال کی شاعری میں مولانا روم سے فکری ربط نمایاں ہے اور اقبال نے رومی کو اپنا مرشدِ معنوی قرار دے کر صوفیانہ روایت کو جدید فکری قالب عطا کیا۔ ڈاکٹر معین نظامی نے کہا کہ اقبال کی شاعری میں عشق، معرفت اور انسان کی روحانی بالیدگی کا تصور اردو اور فارسی صوفیانہ روایت کا تسلسل ہے، جس نے برصغیر کے فکری منظرنامے کو نئی سمت دی۔ صدارتی خطاب میں جناب احمد جاوید نے کہا کہ برصغیر کا ادب صوفیانہ افکار کی بدولت اپنے فکری عروج تک پہنچا۔ ان کے مطابق تصوف کا حقیقی مفہوم رسمی پیری مریدی نہیں بلکہ انسان کے باطن کی تطہیر، اخلاقی ارتقا اور حقیقت کی جستجو ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصوف کی اصل روح علم، محبت، رواداری اور انسان دوستی میں مضمر ہے۔ جناب احمد جاوید نے معروف صوفی بزرگ ذہین شاہ تاجی کی علمی و روحانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں اپنے عہد کی نمایاں فکری و روحانی شخصیت قرار دیا۔ نشست کے اختتامی حصے میں شرکائے محفل، اہلِ علم، اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے موضوع سے متعلق سوالات کیے جن کے جوابات مقررین نے تفصیل سے دیے۔ سوال و جواب کی اس نشست کو شرکا نے بے حد سراہا اور اسے علمی مکالمے کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ اختتامی کلمات میں اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ اکادمی علمی و ادبی مباحث کے فروغ، فکری مکالمے کی ترویج اور نئی نسل کو کلاسیکی و معاصر ادبی روایت سے جوڑنے کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گی۔ انھوں نے مقررین، مہمانانِ گرامی، شرکائے محفل اور آن لائن سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی اہلِ علم و ادب کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے گا۔ اس آن لائن نشست میں چاروں صوبوں سے اہلِ علم و فضل نے بھرپور شرکت کی، جن میں جناب افتخار عارف، جناب خورشید ندیم،جناب ضیاء الرحمٰن بلوچ، جناب محمد حمید شاہد، جناب فرخ یار، ڈاکٹر تنظیم الفردوس، پروفیسر الفت عباس، جناب ذوالفقار ساجد، جناب کامران کاظمی، جناب ذوالفقار علی سجاد، ڈاکٹر ناہید قمر، ڈاکٹرسومیہ عزیز، جناب غافر شہزاد، ڈاکٹر شیراز فضل داد، جناب اسد علی، جناب عامر سہیل، ڈاکٹر فاروق عادل، جناب نور الامین، جناب حسین احمد، محترمہ ثروت محی الدین، محترمہ شاہدہ رسول، محترمہ تنویر انجم، محترمہ نعیم فاطمہ علوی، جناب عثمان وجاہت، پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین، محترمہ شازیہ مجید،ڈاکٹریاسمین سلطانہ محترمہ شازیہ مجید، ڈاکٹربی بی امینہ،جناب اختر رضا سلیمی، جناب میر نواز سولنگی، محترمہ ارم فاطمہ و دیگر علما و ادبا کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ بیرونِ ممالک سے بھی علمی شخصیات نے نشست میں حصہ لیا، جن میں تہران سے ڈاکٹر وفا یزدان منش اور دیگر اہلِ علم، جب کہ ہندوستان سے غیبی جون پوری سمیت متعدد ادبا و محققین شامل تھے۔ جس نے اس سیمینار کو بین الاقوامی حیثیت دی۔ ملک کے مختلف تعلیمی اداروں سے طلبہ کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی، خصوصاً راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، کراچی، جھنگ، پشاور، گورنمنٹ کالج برائے خواتین، ہری پور اور گلگت بلتستان کے اساتذہ اور طلبہ نے فعال شرکت کی اور اس نشست کو بہترین اور معلوماتی قرار دیا۔




















