پاکستان امید زیست ایوارڈ

پاکستان امید زیست ایوارڈ 2020
(کرونا وبائی صورت حال کے تناظر میں)

پاکستان اور دنیا بھر میں جاری وبائی صورت حال نے عوام کو جس الم ناکی اورخوف کی کیفیت سے دوچار کیا ہے اس پر ہر اہل دل تشویش اور کرب میں مبتلا ہے۔ دیگر قومی اداروں کے ہم قدم اکادمی ادبیات پاکستان نے بھی اپنے دائرہ کار میں رہ کر عوامی فلاح کے عزم کو آگے بڑھانے والے شعرا کی حوصلہ افزائی کا بیڑااٹھایا ہے۔ اس ضمن میں یہ سوچا گیا ہے کہ موجودہ وبائی صورت حال کے حوالے سے کی جانے والی شاعری کو نہ صرف اکادمی کی ویب سائٹ پر مشتہر کیا جائے بلکہ بہترین تخلیقات پر شیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی دیے جائیں گے۔
آزمائش کی اس گھڑی میں اہل قلم کے جذبات و احساسات کو محفوظ کرنے کے لیے موصول شدہ شاعری میں سے ایک انتخاب متعلقہ کمیٹی کی منظوری سے کتابی صورت میں شائع کیا جائے گا ۔
شعرائے کرام سے درخواست ہے کہ اپنی شعری تخلیقات (اردوترجمے کے ساتھ تاکہ دیگر زبانوں کے اہل قلم بھی اس سے مستفید ہو سکیں) اکادمی کو درج ذیل ای میل پر ارسال کریں:
Email:umeed@pal.gov.pk
موصول ہونے والی شعری تخلیقات کو روزانہ کی بنیاد پر اکادمی کی ویب سائٹ پر 30 اپریل تک مسلسل شایع کیا جاتا رہےگا ۔
اس ضمن میں درج ذیل تجاویز پیش خدمت ہیں:
1۔ ہر زبان سے وابستہ سینئر شعرا پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے تین بہترین تخلیقات پر پاکستان امید زیست ایوارڈ 2020 دیا جائے گا ۔
2۔ مزید انتخاب کر کے اس شاعری کا ایک انتخاب اکادمی کی جانب سے کتابی صورت میں بھی شایع کیا جائے گا۔
شاعری کے لیے تجویز کیے جانے والے عنوانات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
1۔ مشکل وبائی صورت حال میں عزم و ہمت اور احتیاط و تدبر کی ضرورت کو ابھارنا۔
2۔ آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے فرائض نبھانے والے ڈاکٹروں، ہسپتالوں کے دیگر عملے، ریسکیو کے رضاکاروں،پولیس، افواجِ پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے افراد کا حوصلہ بڑھانا اور ان کی خدمات کو اجاگر کرنا۔
3۔کرونا کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی ۔
4۔ حکومت پاکستان اور دیگر انتظامی و فلاحی اداروں کی کاوشوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی فلاح و تحفظ کی انتظامی ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب۔
5۔آپ کا گھر تک محدود رہنا پاکستان اور انسانیت کے تحفظ کی طرف ایک قدم ہے۔

ڈاکٹر محمد یوسف خشک
چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان

Comments are closed.