اکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی بارہویں تقریب ”پاکستان میں اردو ادبی و لسانی تحقیق کے 75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینار

پریس ریلیز

اردو کے اساتذہ کا ایک تھنک ٹینک ہونا چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد

تحقیق کے لیے تدوین بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی

محقق پر لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ ہونا چاہیے۔ڈاکٹر نجیب جمال

ادیب سوسائٹی کو بہتر سے بہتر بنانے میں جو کردار ادا کرر ہے ہیں اسے تحقیق کے پلیٹ فارم سے منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی

اسلام آباد(پ۔ر)ادیب سوسائٹی کو بہتر سے بہتر بنانے میں جو کردار ادا کرر ہے ہیں اسے تحقیق کے زریعے منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ا کادمی ، نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی بارہویں تقریب ”پاکستان میں اردو ادبی و لسانی تحقیق کے 75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینارمیں ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ مجلس صدارت میں پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد اور پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی شامل تھے ۔ پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال مہمان خصوصی تھے۔ نظامت پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے کی۔ڈاکٹر یوسف خشک نے کہاکہ پاکستانی زبانوں کے حوالے سے ایک الگ سیمینار جلدہی منعقد کیا جائے گا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اس سیمینار کے تمام تحقیقی مقالات کو کتابی صورت میں شائع کرے گی جسے ایک ڈاکومنٹ کی حیثیت حاصل ہوگی۔انہوں نے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان میں ایک آڈیو،ویڈیو اور ڈیجیٹل لائبریری بنتی جا رہی جس میں ان تمام پروگراموں کو ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے ادبی و لسانی تحقیق کے سلسلے میں ایچ ای سی کے کرادر کو بھی سراہا ۔ انہوں نے سیمینار کے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمدنے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ تمام شعبہ جات کے صدور مل کر خود تنقیدی کی طرف جائیں اور ایک مشاورت سے آگے بڑھیں۔ اردو کے اساتذہ کا ایک تھنک ٹینک ہونا چاہیے۔ سب لو گ مل کر اصلاح احوال پر توجہ دیں اور تمام معلومات کو ویب سائیٹ پر ڈالا جائے تاکہ طالبعلموں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب مل سکے۔ پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی نے کہا کہ تحقیق کے لیے تدوین بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق کے لیے ایسے امور کی طلب اور توجہ کا ہونا ضروری ہے جن کے بغیر کوئی بھی تحقیق بے معنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے حوالے سے کام تو بہت ہوا ہے لیکن معیارات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر نجیب جمال نے کہاکہ نجی حیثیت میں جو تحقیق ہوئی ہے اس کی ایک روایت موجود ہے، اس تحقیق کے معیار نے نئی نئی راہیں متعین کی ہیں اور اسے ایک رول ماڈل کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدار میں سے معیار نکلتا تو دکھائی دیتا ہے لیکن مقدار جتنا ہی مواد ہو تو بہتر ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ محقق پر لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ ہونا چاہیے ۔ڈاکٹر روبینہ رفیق نے کہاکہ اسلامیہ یونیورسٹی ، بہاولپور میں باقاعدہ اقبالیات کا شعبہ قائم کیا گیا ہے۔یہاں تحقیق کے حوالے سے موضوع کثیر الجہت رہے ہیں۔ طارق بن عمر نے شعبہ اردو خیرپور میرس کے چیئرمین کی حیثیت سے یونیورسٹی میں اعلی معیاری تحقیق کے ضمن میں ہونے والے کاموں پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر افضال بٹ نے کہاکہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شعبہ ارددو، سیالکو ٹ یونیورسٹی کو ایک نئی طرز سے استوار کیاگیا ہے ۔ اس یونیورسٹی میں تحقیقی میدان میں کام ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر رخسانہ بلوچ نے کہا کہ گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی ، فیصل آباد میں فکشن اور شاعری کے حوالے سے بہت کام ہورہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ جامعہ کے تحت تحقیقی کاموں کو اس سطح اور معیار پر لے آئیں کہ وہ عالمی سطح پر ہونے والے کام میں مقام حاصل کر سکے۔پروفیسرڈاکٹر نذر عابدنے کہا کہ اردو رباعی کے حوالے سے کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر فرحت ورک نے کہا کہ فاطمہ جناح یونیورسٹی میں سال 2012میں شعبہ اردو قائم ہوا تھا جس کے تحت اب تک 43مقالات لکھوائے جا چکے ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی کہ تحقیق و تنقید کے شعبے میں عالمی رجحانات کو مد نظر رکھا جائے۔ ڈاکٹربصیرہ عنبرین جو اقبال اکادمی پاکستان کی سربراہ بھی ہی نمائندگی کر رہی تھیں، انہوں نے کہا کہ اقبال اکادمی ،اقبالیاتی تحقیق کے حوالے سے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اقبال اکادمی کے تحت سائبر لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا گیاہے جس پر اقبالیات کے حوالے سے بہت زیادہ مواد میسر ہے۔ڈاکٹر شذرہ سکندری نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی ، جامشورو کا شعبہ اردو تحقیق کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر شیر علی نے پاکستان میں اردو نظم کے ارتقاءکے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ علامہ اقبال جدید اردو نظم کا نقطہ عروج ہیں۔ انہوں نے اردو نظم کے حوالے سے اب تک ہونے والے کام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروفیسر خالد خٹک نے بلوچستان کی جامعات میں اردو تحقیق کے رجحانات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس جامعہ میں شعبہ اردو ادبی ولسانی تحقیق کے ضمن میں قابل قدر کام سرانجام دے رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے کہاکہ جامعہ کراچی کے تحت اردو کے دو شعبے ، ایک کراچی اور دوسرا اسلام آباد میں کام کر رہا ہے۔ اس شعبے کے تحت اب تک 76طلبا ایم فل اور 42طلباءپی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے کہا کہ اسلامک یونیورسٹی اسلام آٓباد میں سال 2007میں شعبہ اردو کا آغاز ہو اتھا۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ آغاز ہی میں اس شعبے کو بڑے معتبر اساتذہ میسر آئے۔ اس شعبے کی ادبی و لسانی تحقیق کے میدان میں کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ ڈاکٹر عطاءالرحمن نے لاہور گیریژن یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ اس یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے جدید عصری تقاضوں کے حوالے سے نصابات ترتیب دیے ہیں۔ یہاں اردو شاعری کی تمام اصنا ف پر تحقیقی کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر اشرف کمال نے پاکستان میں اردو زبان کی پیدائش کے حوالے سے لسانی تحقیق پر گفتگو کی اور اردو کے معرض وجود میں آنے کے خدوخال پیش کیے۔ پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیربخاری نے کہاکہ جامعہ پشاور کا شعبہ اردو ادبی و لسانی تحقیق کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کوویڈ جیسی وبا کے باوجود ایسی تقریبات منعقدکرنے پر چیئرمین اکادمی کو مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ ارم نے کہا کہ جامعات کو تحقیقی سرگرمیوں کا گڑھ ہو نا چاہیے۔ جامعات میں ہر سال درجنوں مقالات لکھوائے جارہے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی رہنمائی میں ڈیجیٹل ریسرچ پر توجہ دینے پر زور دیا۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے پاکستانی جامعات میں اردو غزل پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ غزل ہماری ایک پوری تہذیبی تاریخ ہے ، غزل ہمارا تہذیبی نشان ہے۔ غزل پر اب تک بہت زیادہ تحقیق ہوئی اور بہت زیادہ مقالاجات تحریر کیے جاچکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ اسلم نے نمل یونیورسٹی کے شعبہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کام پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے تحقیق کے حوالے سے جامعہ کے جریدے ”دریافت“ کے کردار کو بھی سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر عظمی فرمان نے پاکستان میں نسائی تحقیق کی روایت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے 75سالوں میں اس حوالے سے بہت تحقیقی کام ہوا ہے۔ اس حوالے سے خواتین نے بہت اچھا کام کیا ہے اور کوئی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا۔ طویل سے طویل کام کو بھی پوری دلجمعی سے سرانجام دیا ہے ۔ پروفیسرڈاکٹر ارشد محمود ناشادنے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہاکہ اس یونیورسٹی میں پچھلے 35سال سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کا کام ہورہا ہے اور ہمیں بہت اچھے اساتذہ کی رہنمائی حاصل رہی ہے ۔ یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کا شعبہ بھی ادبی و لسانی تحقیق کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ پروفیسرڈاکٹر ممتا زکلیانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی نے شخصیت اور فن کے حوالے سے بہت سے تحقیقی مقالے تحریر کرائے ۔ ان تحقیقی مقالوں اور ادبی جرنلز کی اشاعت کو شعبہ اردو کے کاموں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ پروفیسرڈاکٹر زاہد منیر عامرنے پاکستان میں اردو تدوین کے 75سال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخظوطات کی ترتیب تدوین ِ متن کہلاتی ہے نہ کہ مطبوعات کی تدوین ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عالمی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں ، ان پر توجہ دی جائے اوراس حوالے سے مقالا جات لکھوائے جائیں۔ڈاکٹر خالد ندیم نے آثار اقبال کی تدوین کی75سالہ تاریخ اور امکانات کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔


۔اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ میں ”پاکستان میں اردو ادبی و لسانی تحقیق کے 75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینارمیں ڈاکٹر حمیرا اشفاق ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر یوسف خشک، ڈاکٹر فرحت جبیں، ڈاکٹر شیر علی اور تسنیم اکرام اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ میں ”پاکستان میں اردو ادبی و لسانی تحقیق کے 75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ آن لائن سیمینارکے شرکا

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

There should be a think tank for Urdu teachers. Prof. Dr. Anwar Ahmed

Editing is fundamental to research. Prof. Dr. Tehseen Faraqi

People should have confidence and trust in the researcher. Dr. Najeeb Jamal

The role that writers have played in improving society should be brought to light through research platforms. Dr. Yousuf Khushk, Chairman PAL

Islamabad (P.R) The role that writers have played in improving society should be brought to light through research.These views were expressed by Dr. Yousuf Khushk, Chairman, Pakistan Academy of Letters (PAL) while presenting the key-note address in the Twelfth program of Pakistan’s Diamond Jubilee Celebrations series, an online seminar on “75 Years of Urdu Literary and Linguistic Research in Pakistan” organized by the PAL. The Presidium consisted of Prof. Dr. Anwar Ahmed and Prof. Dr. Tehseen Faraqi. Prof. Dr. Najeeb Jamal was the chief guest. “. The Moderator was Prof. Dr. Tanzeem Al-Firdous.

Dr. Yousuf Khushk said that a separate seminar on Pakistani languages would be organized very soon. PAL will publish all the research papers of this seminar in book form which will have the status of a document. He said that the PAL is becoming an audio, video and digital library in Pakistan in which all these programs are being recorded. He also appreciated the role of HEC in literary and linguistic research. He thanked all the participants of the seminar.

Prof. Dr. Anwaar Ahmad while delivering the presidential address said that the presidents of all departments should work together towards self-criticism and move ahead with a consultation.

There should be a think tank for Urdu teachers. Everyone should focus on improving the situation and put all the information on the website so that the questions that arise in the minds of the students can be answered.

Prof. Dr. Tehseen Faraqi said that editing is fundamental for research. Research requires attention and attention to matters without which any research is meaningless. He said that a lot of work has been done in terms of research but standards have not been taken care of.

Prof. Dr. Najeeb Jamal said that there is a tradition of research done in private, the quality of this research has paved new paths and it has the status of a role model. He said that quality comes out of quantity but it is better if quantity is as much as material. e said that people should have confidence and trust in the researcher.

Dr. Rubina Rafique said that a regular confession department has been set up at Islamia University, Bahawalpur. Tariq bin Umar, as the Chairman of the Department of Urdu, Khairpur Mirus, highlighted the work being done in the field of high quality research in the University. Dr. Afzal Butt said that we are trying to establish the Department of Urdu, Sialkot University in a new style. Research is being done in this university.
Dr. Rukhsana Baloch said that a lot of work is being done in the field of fiction and poetry in Government College Women’s University, Faisalabad. We strive to bring the research work under the auspices of the university to such a level and quality that it can find a place in the work done globally.
Prof. Dr. Nazar Abid said that no special work has been done regarding Urdu Quartet and it should be noted.
Talking about the evolution of Urdu poetry in Pakistan, Dr. Sher Ali said that Allama Iqbal is the pinnacle of modern Urdu poetry. He elaborated on the work done so far on Urdu poetry.
Prof. Khalid Khattak while talking about the trends of Urdu research in the universities of Balochistan said that the Department of Urdu Literary and Linguistic Research in this university is doing valuable work.
Dr. Yasmeen Sultana said that two departments of Urdu are working under Karachi University, one in Karachi and the other in Islamabad. So far 76 students have obtained M.Phil and 42 students have obtained Ph.D degrees in this field.
Dr. Humaira Ashfaq said that Urdu Department was started in the year 2007 in Islamic University Islamabad. We were fortunate to have very good teachers in this field from the very beginning. Efforts in the field of literary and linguistic research in this field are commendable.
Representing Lahore Garrison University, Dr. Ata-ur-Rehman said that the Urdu department of this university has formulated curricula with reference to modern requirements. Research work on all genres of Urdu poetry has been done here.
Dr. Ashraf Kamal discussed linguistic research on the origin of Urdu language in Pakistan and outlined the origins of Urdu.
Prof. Dr. Badshah Munir Bukhari said that the department of University of Peshawar is playing a key role in Urdu literary and linguistic research. He congratulated the Chairman of the PALfor holding such events in spite of an epidemic like Covid-19.
Prof. Dr. Saima Iram said that universities should be the hub of research activities. Dozens of articles are being written in universities every year. She emphasized the need to focus on digital research under the guidance of teachers.
Talking about Urdu ghazal in Pakistani universities, Dr. Tariq Hashmi said that ghazal is our entire cultural history, ghazal is our cultural symbol. There has been a lot of research on ghazal so far and a lot of essays have been written.
Prof. Dr. Fauzia Aslam elaborated on the work of M.Phil and Ph.D. Department of Numal University. Shee also praised the role of the university’s journal “Daryafat” in research.
Prof. Dr. Azmi Farman while talking about the tradition of women’s research in Pakistan said that a lot of research work has been done in this regard in the last 75 years. The women have done a great job in this regard and have not used any shortcuts. Even the longest work has been done wholeheartedly.
Prof. Dr. Arshad Mehmood Nashad, representing Allama Iqbal Open University, said that M.Phil and Ph.D level work has been going on in this university for the last 35 years and we have been guided by very good teachers. The Department of Pakistani Languages at the University is also rendering invaluable services in the field of literary and linguistic research.
Prof. Dr. Mumtaz Zakliani said that Bahauddin Zakaria University has written many research papers on personality and art. The publication of these research articles and literary journals has a prominent place in the work of the Urdu department.
Prof. Dr. Zahid Munir Aamir while talking about the 75 years of Urdu compilation in Pakistan said that the arrangement of manuscripts is called editing of text and not editing of publications. He suggested that attention should be paid to the issues facing the world and essays should be written in this regard.Dr. Khalid Nadeem presented an essay on the 75-year history and possibilities of editing Iqbal’s works.

Comments are closed.