اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی گیارہویں تقریب”پاکستان اور مختلف مملک کے ادبی روابط کے75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینار

پریس ریلیز

جن ممالک میں اردو ادب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی موجود ہیں ، اُن کو اس تقریب کے ذریعے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اکادمی نے ایک اہم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اصغر ندیم سید

کسی بھی ملک کی تاریخ میں 75 سال اہم ہوتے ہیں۔ہماری جنریشن خوش نصیب ہے کہ ہمارے حصے میں اپنے ملک کی ڈائمنڈ جوبلی کو دیکھنا اورسیلیبریٹ کرنا آیا ہے۔ڈاکٹر یوسف خشک

اسلام آباد(پ۔ر) کسی بھی ملک کی تاریخ میں 75 سال اہم ہوتے ہیں۔ہماری جنریشن خوش نصیب ہے کہ ہمارے حصے میں اپنے ملک کی ڈائمنڈ جوبلی کو دیکھنا اورسیلیبریٹ کرنا آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے ا کادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ،پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلہ کی گیارہویں تقریب”پاکستان اور مختلف مملک کے ادبی روابط کے75سال “ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینارمیںابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کیا۔صدارت پروفیسر ڈاکٹر اصغر ندیم سیدنے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر رﺅ ف پاریکھ اور پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ترین مہمانان ِ اعزاز تھے ۔ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ لودھی،”نے بیرون ممالک سے ادبی روابط میں پاکستانی جامعات اور اداروں کا کردار“کے موضوع پر بنیادی مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عین اللہ مدیتی(آذر بائیجان)، سعید نقوی(امریکہ)، سعید بن محمد بن سالم اصتقلاوی(اومان)،پروفیسر ڈاکٹر علی بیات(ایران)، مارکولکیزی (برازیل)،باصر کاظمی(برطانیہ)،پروفیسر ڈاکٹر محمود الاسلام(بنگلہ دیش)،پروفیسر ڈاکٹر یعقوب یاور(بھارت)،پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار(ترکی)، پروفیسر ڈاکٹر سویا مانے(جاپان)، ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ(جرمنی)، پروفیسر تھانگ منگ شنگ(چائنا)، صدف مرزا(ڈنمار ک)، ڈاکٹر لڈمیلا ویسلوا(روس)، پروفیسر ڈاکٹر ہائنزورنر ویسلر(سویڈن)، روبینہ فیصل(کینیڈا)، پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم (مصر ) ،ڈاکٹر علی عادل المحمود(ماریشس)، ڈاکٹر عبد المیبن خان ثاقب ہارونی(نیپال )، ڈاکٹر اولینابورڈوسکا(یوکرائن)نے اپنے اپنے ممالک کے ساتھ پاکستان کے ادبی روابط کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ نظامت ڈاکٹر اسما نوید نے کی۔ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے کہا کہ تہذیبوں کے باہمی مکالمے کے لیے سفارتی و تجارتی روابط کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی روابط بھی بنیادی حوالے کا کام کرتے ہیں، اس سلسلے میں ترجمہ ایک ایسا واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے آپ کسی بھی تہذیب سے اس سطح پر مکالمہ کرنے اور اس کی تفہیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ویسے تو ہر سال یوم جشن آزادی منایا جاتا ہے لیکن اس سال ڈائمنڈ جوبلی کے پیش نظر پاکستان اکیڈمی آ ف لیٹرز کی ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ یوم جشن آزادی منانے کے بجائے اکادمی ادبیات پاکستان پورا سا ل ڈائمنڈ جوبلی سال کے طور پر منائے۔آج کا یہ گیارہواں پروگرام پاکستان اور مختلف ممالک کے ادبی روبط اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے پلیٹ فارم سے سرکاری سطح پر ادبیوں کے وفود مالدیپ، نیپال، بیلا روس، ایران، چائنا، انڈیا، لبنان، ترقی، تاجکستان، سنگا پور، آذربائیجان، افغانستان، اومان، ازبکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ جب کہ اسی طرح اکادمی ادبیات پاکستان کی کانفرنسوں میں درجنوں ممالک کے وفود پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ مختلف سرکاری و نجی اداروں میں روانی سے جاری ہے۔اسی طرح اس وقت پانچ ممالک، چائنا، بیلا روس، نیپال، اومان اور ترکی سے ہمارے معاہدے پہلے سے موجود ہیں جب کہ برازیل، بلغاریہ، ویتنام، آذر بائیجان، ایران، پرتگال، جرمنی، کویت اور یوکرائن کے لیے کوشش جاری ہے۔پروفیسر ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک میں اردو ادب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی موجود ہیں ، اُن کو اس تقریب کے ذریعے ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اکادمی نے ایک اہم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں اردو کی چیئرز اور ادیبوں کے ثقافتی وفود کے باہمی تبادلے کے سلسلے کو جاری رکھا جانا چاہےے۔ اردو زبان کی ترویج و فروغ کے لےے ہمارا افسانہ، ناول ، نظم ایک اہم مقام رکھتے ہیں اس کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔پروفیسر ڈاکٹر رﺅ ف پاریکھ نے کہاکہ کورونا کے باوجود ایسی تقریب کے انعقاد پر اکادمی ادبیات پاکستان مبارکبا د کی مستحق ہے۔ اس تقریب سے اردو کے حوالے سے بہت اہم تجاویز سامنے آئی ہیں جن پر توجہ دینی چاہےے۔ ڈاکٹر روبینہ ترین نے کہا کہ ایک دوسرے ممالک کے ادب کے تراجم بنیادی طور پر دونوں زبانوں کے درمیان رابطے کے لیے اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ اداروں کی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی جانی چاہیےے۔ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ لودھی نے بیرون مملک سے ادبی روابط میں پاکستانی جامعات اور اداروں کا کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تمام جامعات میں اردو کے شعبہ جات کام کرر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام جامعات میں تراجم کے مراکز موجود ہیں۔ ترجمے سے جتنی ترقی آج ہوئی ہے پہلے نہیں تھی۔ جامعات کے تحت شائع ہونے والے مجلے ریسرچ جرنلز کی اشاعت سے ہم لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ نمل یونیورسٹی میں 19سے زائد زبانوں کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عین اللہ مدیتی(آذر بائیجان)نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرا ہتمام منعقد ہ اس تقریب سے دونوں ممالک کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ سعید نقوی(امریکہ)نے کہا کہ امریکہ کی بہت سی جامعات میں اردو پڑھائی جارہی ہے۔ امریکہ میں مختلف تنظیموں کے زیر اہتمام اردو کی نشستیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ ملکوں کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کو بڑھانے کے لےے تراجم بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سعید بن محمد بن سالم اصتقلاوی(اومان)نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ادبی روابط کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر علی بیات(ایران)نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ادبی روابط بہت پرانے ہیں ۔ مارکولکیزی (برازیل)نے اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہ اس تقریب کو سراہا اور کہا کہ رومی ، بلھے شاہ ، حافظ شیرازی ، شاہ حسین اور علامہ اقبال کے کلام سے امن اور محبت کا پیغام ملتا ہے۔ باصر کاظمی(برطانیہ)نے کہا کہ 80کی دہائی میں برطانیہ میں اردو مرکز کا قیام عمل میں آیا جس نے اردو ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمود الاسلام(بنگلہ دیش)نے کہا کہ بنگلہ اور اردو زبان کے روابط پر کام کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے زیراہتمام اس سال اردو کے حوالے سے صدسالہ جشن منایا جارہا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر یعقوب یاور(بھارت)نے کہا کہ اردو ہم دونوں ملکوں کی مشترکہ زبان ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار(ترکی)نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات کئی برسوں پر محیط ہیں۔ دوستی اور پیارکے رشتے سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کے کلام کے ذریعے ہمارے درمیان ادبی روابط قائم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سویا مانے(جاپان)نے کہا کہ اوساکا یونیورسٹی میںسو سال پہلے اردو کا شعبہ قائم ہوا تھا ، اس سال اردو کا صد سال جشن منایا جارہا ہے۔ ہمارے ہاں شائع ہونے والے رسائل میں اردو افسانوں کے تراجم شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ(جرمنی)نے کہا کہ اردو زبان سے میری دلچسپی نہ کم ہوئی ہے اور نہ کم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال کے کلام نے دونوں ممالک کے روابط کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ پروفیسر تھانگ منگ شنگ(چائنا)نے کہا کہ پاکستان اورچائنا کے تعلقات بہت مضبو ط اور دوستانہ ہیں۔ 1985سے لے کر کرونا سے پہلے تک چین اور پاکستان کے مابین ادیبوں کے وفود کے تبادلوں سے ہمارے ادبی روابط بہت مضبو ط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا چین کی سات یونیورسٹیوں میں اردو پڑھائی جارہی ہے۔ اب تو ہر سال پچاس سے ساٹھ افراد اردو سیکھنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ چائنا میں18کے لگ بھگ پاکستان اسٹڈیز سینٹرز موجود ہیں۔ صدف مرزا(ڈنمار ک)نے کہا کہ ڈینش زبان میں تراجم کے ذریعے اردو کو فروغ دینے میں اردو زبان سے تعلق رکھنے والے یہاں مقیم پاکستانیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اگلے سال اقبال کے حوالے سے جسٹس ناصرہ کے ساتھ ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر لڈمیلا ویسلوا(روس)نے کہا کہ روس اور پاکستان میں طویل ادبی روابط ہیں۔ روس میں تراجم کی بدولت کلاسیکی ادب کو متعار ف کرایا گیا ہے۔ روس میں پاکستانی شاعری کے زیادہ تراجم ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں کلیات فیض کا ترجمہ بھی جلد شائع ہونے والا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ہائنزورنر ویسلر(سویڈن)نے کہا کہ سویڈن میں آزادی کے بعد اقبال ، فیض ، منٹو اور دیگر پاکستانی ادیبوں کے کلام کے تراجم کیے گئے جو ہمارے ادبی روابط کا باعث بنے۔ یہاں مختلف ممالک کی زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔ روبینہ فیصل(کینیڈا)نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارز بھی رابطے کی ایک اہم صورت ہوتے ہیں۔ ان سے دونوں دنیاﺅں کو جوڑنے میں مدد ملتی ہے۔ ڈاکٹر علی عادل المحمود(ماریشس)نے کہا کہ ماریشس کے بہت سے لوگوں نے پاکستانی جامعات سے تعلیم حاصل کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم (مصر )نے کہا کہ عوام کے درمیان تعلقات کے سلسلے میں ثقافتی و ادبی روابط بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔مصر میں علامہ اقبال کے کلام کے تراجم سے پاکستان اور مصر کے درمیان ادبی روابط کو فروغ ملا ہے۔ ڈاکٹر عبد المیبن خان ثاقب ہارونی(نیپال )نے کہا کہ نیپال کے لوگ اردو زبان میں گفتگو شاعری کرنا اپنے لیے فخر سمجتھے ہیں۔ نیپال اور پاکستان کے ادبی روابط بہت مضبو ط ہیں۔ یہاں پاکستانیوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ نیپال کے تعلیمی اداروں میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔ڈاکٹر اولینابورڈوسکا(یوکرائن)کا تحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا ، انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ ہم دونوں ملک قومی جذبے پر مشترکہ نظر رکھتے ہیں۔ زبان کے بغیر کسی بھی قوم کی پہچان نہیں ہوتی۔ قوم کی طاقت اس کی زبان سے ہوتی ہے۔

Comments are closed.