اردو ادب میں پاکستانیت کا اظہار


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار”اردو ادب میں پاکستانیت کا اظہار“میں محبوب ظفر, ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی, ڈاکٹر احسان اکبراور نعیم فاطمہ علوی اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان، قیام پاکستان کے پچہترویں سال کے آغاز میں ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر ایک سال میں 75تقاریب منعقد کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہارڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار”اردو ادب میں پاکستانیت کا اظہار“میں ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ صدارت ڈاکٹر احسان اکبر نے کی۔ پروفیسر جلیل عالی مہمان خصوصی جبکہ ایاز گل مہمان اعزاز تھے۔ڈاکٹر خالد عباس الاسعدی، صباحت عاصم واسطی، یشپ تمنا اور نعیم فاطمہ علوی نے موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کیا۔ نظامت محبوب ظفرنے کی۔ یہ تقریب ادبی و ثقافتی تنظیم زاویہ کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی، نے کہاکہ حصول پاکستان کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بے شمار قربانیاں دیں۔ اب یہ ہمارافرض ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ان واقعات سے آگاہ کریں۔ اکادمی ادبیات پاکستان، قیام پاکستان کے پچہترویں سال کے آغاز میں ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر ایک سال میں 75تقاریب منعقد کررہی ہے جس میں 75سالہ ادبی سفر کا احاطہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر احسان اکبر نے کہاکہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھااس کی تشکیل ابھی ہونی ہے۔ اقبال کا تصور پاکستان یہ تھا کہ مسلمان اپنی اُمنگوں کے مطابق جی سکیں۔ یہی پاکستانیت ہے۔ پاکستانیت عالمگیریت کا نام ہے۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا۔ اس محبت کے سفر کا نام پاکستانیت ہے۔ 1965کی جنگ میں مجید امجد، حمایت علی شاعر، قتیل شفائی نے اپنی شاعری کے ذریعے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا۔ عزیز احمد نے اپنی ناولوں میں خادم منظور، شیخ محمد اکرم نے پاکستانی تہذیب کو اجاگرکیا۔ پطرس بخاری، فیض، عسکری، صوفی تبسم، کشمیر کے موقف پر ڈٹے رہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ادب قائد کی رہنمائی اور فکر اقبال کی اساس پر پروان چڑھا ہے۔ اردو ادب نے پاکستانی زبانوں کے الفاظ کو قبول کیا۔ پروفیسر جلیل عالی نے کہاکہ تشکیل پاکستان کے بعد کم و بیش تمام اصنافِ ادب میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اس تبدیلی میں ہم پاکستان کی شناخت اور اس کے خدو خال کو تلا ش کر سکتے ہیں۔ ہمارے اہل قلم نے اردو شعرو ادب میں کھل کر پاکستانیت کا اظہار کیا ہے۔ ایاز گل نے کہاکہ75سالہ جشن کے حوالے سے یہ پروگرام تاریخ کا حصہ بنے گا۔ پاکستان کی تہذیب و تمدن، زبان، دکھ سکھ سب پاکستانیت میں آتے ہیں۔ سندھ میں بھی اردو ادب کے حوالے سے بہت کچھ تخلیق ہوا۔ سندھی تخلیقاروں نے اردو ادب کو وسعت دی ہے۔ اسی طرح اردو ادب میں پانچ ہزار ملی نغمے لکھے گئے۔ منیر نیازی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، احمد فراز، احمد ندیم قاسمی و دیگر شعراء نے وطن کی محبت میں بہت کچھ لکھاہے۔ اردو ادب اس دھرتی سے وابستہ ہے۔ ڈاکٹر خالد عباس الاسعدی نے کہا کہ پاکستان ایک شاعر کا خواب تھا۔ پاکستان سے محبت ہی پاکستانی ادب کی اساس ہے۔ ہمارا ادب ہمیں پاکستان کی شناخت بتاتا ہے۔ ہمارے ادب نے ہماری نسلوں کو پروان چڑھایا ہے۔ صباحت عاصم واسطی نے کہا کہ بیرون ملک مقیم شاعروں کے احساسات عجیب ہوتے ہیں کہ وہ اپنے وطن سے دوری اس کی حب الوطنی کو انگیخت کرتی ہے۔ اس کا ذکر وہ شاعری میں شعوری یا لاشعوری طور پر کرتے ہیں۔ یشپ تمنا نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی تخلیقات کے ذریعے پاکستان اور اس کی مٹی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں اور بیرون ممالک میں مقیم اہل قلم کا اردو ادب میں نمایاں حصہ ہے۔ نعیم فاطمہ علوی نے کہا کہ مٹی کی خوشبو ہی تخلیق کاروں کے تخلیقی تجربے کو نکھارتی اور سنوارتی ہے۔ اردو اد ب میں پاکستان کی تہذیب کی رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ غزل،نظم اورنثر میں وطن سے محبت کا والہانہ اظہار ملتا ہے۔

Comments are closed.