چیئرمین اکادمی کا معروف شاعر نقاش کاظمی اور پشتو ادیب شاہ ولی خان سید ووال کے انتقال پر اظہار تعزیت

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے معروف ترقی پسند شاعر نقاش کاظمی اور پشتو ادیب شاہ ولی خان سیدووال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نقاش کاظمی کی تربیت علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ وہ کافی عرصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ اردو ادب کے ساتھ ساتھ انہوں نے لسانیات اور قانون کے شعبوں میں بھی ڈگریاں لیں اور ڈویژنل انجنیئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ۔ وہ ”رنگ سفر“ ، ”دامنِ گل“ اور میراث جیسے شعری مجموعوں کے خالق تھے اور ان کا مجموعہ کلام چاندنی اور سمندر کے نام سے شائع ہوا۔ انہیں ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت وقت نے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی عطاکیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ شاہ ولی خان سیدووال نے پشتو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار اداکیا۔ وہ پشتو ادبی تنظیم ” اتفاق ادبی ٹولنہ“(سندھ) کے صدر تھے۔ پشتو شعر و ادب کے علاوہ وہ فارسی اور عربی سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ دونوں مرحومین کی ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Comments are closed.