ہندکو حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آن لائن ہندکو حمدیہ ونعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ صدارت محمد ضیاءالدین نے کی۔ امتیاز الحق امتیاز مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان ،نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹر عامر سہیل نے کی۔ مشاعرے میں ملک بھر سے شعراءکرام نے ہندکو میں حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین،ا کادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ حمدو نعت کہنا ہر شاعر اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہے چنانچہ دیگر پاکستانی زبانوں کی طرح ہندکو میں بھی حمد و نعت کی ایک بھرپور روایت نظر آتی ہے۔ ہندکو شاعری کے اولین دور میں شعراءکی زیادہ تر توجہ حمدو نعت اور منقبت کی طر ف رہی ہے جبکہ دوسرے دور میں شاعری کی یہ دو اصناف چار بیتے اور حرفی کی صورت میں سامنے آئی ہیں ۔ان اصناف کے زیادہ تر موضوعات حقانی نوعیت کے ہیں جن میں نعت کا بیان بھی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندکو شاعربھی حمد و ثنا الٰہی کے ساتھ ساتھ عشق رسول سے سرشار ہیں۔ ہندکو کے ابتدائی شعرا میں شیخ عیسیٰ انبالہ، وجید، صاحب حق، استاد نامور ، استاد نظیر احمد روا، مرزا عبد الغنی، فقیر جیلانی، محمد دین ماہیواو ر سائیں احمد علی کے کلام کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ ان شعراءکے ہاں عشق حقیقی، وحد ت الوجود اور عشق رسول بنیادی موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیسویں صدی میں اخونزادہ قابل خان، حکیم شیخ امام دین، مولودی عبد اللہ واعظ اور سید شاہ حسین کے حمدیہ اور نعتیہ کلام نے بے پنا ہ شہرت حاصل کی۔ اس حوالے سے سائیں غلام دین ہزاروی کے حمدیہ و نعتیہ کلام چار بیتے الگ سے مطالعے کے متقاضی ہیں جن کا بنیادی موضوع ہی واحدنیت اور عشق رسول ہے۔ ان کی کتاب” سوداگر ایسے بازار دا“اس کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حمد و نعت کے سلسلے میں سائیں احمد علی نے حرفیاں لکھی ہیں۔ ان حرفیوں میں جذبہ و عقیدت دیدنی ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی نے کہاکہ ہندکو کے کلاسیکی، نوکلاسیکی دور کے ساتھ ساتھ جدید ہندکو شعرا نے بھی حمدو نعت کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا ہے ۔ جدید ہندکو شعرامیں عبد الغفور ملک نے قرآن کے منظوم ہندکو ترجمے کے ساتھ ساتھ، ہندکو نعتیہ مجموعہ ”نین کٹورے “ کے نام سے شائع کیا ہے۔ ان کے علاوہ حیدر زمان ، پروفیسر یحیٰ خالد، آصف ثاقب، پروفیسر فرید ، سلطان سکون، پروفیسر صوفی رشید اور بشیر احمد سو ز ہزارہ والی ہندکو کے حوالے سے جب کہ فارغ بخاری ، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی ، مختار علی نیئر ، نذیر تبسم ، ناصر علی سید اور سعید گیلانی پشاوری ہندکو میں اللہ اور اس کے رسول سے عقیدت کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عشق حقیقی اور رسول کا موضوع دیگر پاکستانی زبانوں کے ساتھ ساتھ ہندکو ادب میں بھی غالب موضوع ہے۔ میں تمام شعراءحضرات کا ممنون ہوں، کہ اکادمی کی دعوت قبول کر کے اس مشاعرے میں شریک ہوئے۔ مشاعرے میں اختر زمان (بالاکوٹ )، سہیل احمد صمیم (ایبٹ آباد)، قاضی ناصر بخت یار (نواں شہر)، شکیل اعوان (ایبٹ آباد)، شجاعت علی شاہ جی (شنکیاری )، عبد الوحید بسمل (ایبٹ آباد)، حسام حُر(پشاور)،بشریٰ فرخ(پشاور)، احمد ندیم اعوان (پشاور)، سید ماجد شاہ ،علی اویس خیال، سکندر حیات اور دیگر نے ہندکو زبان میں حمدیہ و نعتیہ کلا م پیش کیا۔


آن لائن ہندکو حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کے شرکا

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Islamabad (P.R): In the Holy month of Ramadan-ul-Mubarak, an online Hindko Hamdiya and Naatiya Mushaira was organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL). Mushaira presided over by Muhammad Zia-ud-Din. Imtiaz-ul-Haq Imtiaz was the chief guest. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, gave the introductory speech. Dr. Amir Sohail was the moderator. Poets from all over the country recited Hamdiya and Naatiya poetry in Hindko language. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, in his introductory remarks said that every poet considers it his religious duty to recite Hamdo Naat. Thus, like other Pakistani languages, Hindko has a deep tradition of Hamad and Naat. In the early period of Hindko poetry, most of the poets’ attention was focused on Hamdo Naat and Manqabat, while in the second period, these two genres of poetry came to the fore in the form of four verses and letters. Most of the titles of this genre are Haqqani in nature, including Naat. A study of the words of Sheikh Isa Anbala, Wajid, Sahib Haq, Ustad Namur, Ustad Nazir Ahmad Rawa, Mirza Abdul Ghani, Faqir Jilani, Muhammad Din Mahiwa and Sai Ahmad Ali among the early poets of Hindko shows that there is real love in these poets Unity of existence and love of the Prophet is the main theme.

He said that in the 19th century, the Hamdiya and Naatiya poetry of Akhunzada Qabil Khan, Hakim Sheikh Imam Din, Maulvi Abdullah Waiz and Syed Shah Hussain gained immense fame.

In this regard, the four verses of the Hamdiya and Naatiya poetry of Saien Ghulam Din Hazarawi need to be studied separately. The main theme of which is unity and love of the Prophet. His book, “Saudagar Aisay Bazar Da”is a testament to this. He said that Saien Ahmad Ali has written letters regarding Hamad and Naat. There is passion and devotion in these characters.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, said that along with the classical, neoclassical era of Hindko, modern Hindko poets have also made Hamdo Naat their special theme. In modern Hindko poetry, Abdul Ghafoor Malik has published a Hindko translation of the Qur’an, along with a Hindko Naatiya collection called “Nain Katore”.

Apart from them, from Hazara Hindko, Haider Zaman, Prof. Yahya Khalid, Asif Saqib, Prof. Farid, Sultan Sukoon, Prof. Sufi Rashid and Bashir Ahmad Sooz while Farag Bukhari, Raza Hamdani, Khater Ghaznavi, Mukhtar Ali Nayyar, Nazir Tabassum Nasir Ali Syed and Saeed Gilani have expressed their devotion to Allah and His Messenger in Peshawar Hindko. It is clear from this that the subject of true love of Allah and the Prophet is a dominant subject in Hindko literature as well as in other Pakistani languages.

I am grateful to all the poets for accepting the invitation of the PAL and participating in this Mushaira. Participants of Mushaira included Akhatar Zaman (Balakot), Sohail Ahmad Samim (Abbottabad), Qazi Nasir Bakht Yar (Nawan Shehr), Shakeel Awan (Abbottabad), Shujaat Ali Shah Ji (Shankiari), Abdul Waheed Bismal (Abbottabad), Hassam Hur (Peshawar), Bushra Farrukh (Peshawar), Ahmad Nadeem Awan (Peshawar), Syed Majid Shah, Ali Owais Khayal, Sikandar Hayat and others presented Hamdiya and Naatiya poetry in Hindko language.