سندھی حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد

اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آن لائن سندھی حمدیہ ونعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔مجلس صدارت میں سید گل محمد شاہ گل(شہدادکوٹ)اور شبیر ہاتف(کراچی ) شامل تھے۔ سید نور رضوی(روہڑی)، ڈاکٹر ادل سومرو(سکھر)اور مدد علی سندھی(کراچی)مہمانان خصوصی تھے۔ پروفیسر نجمہ نور (خیرپور)، سجاد میرانی(پریالو)اور غلام محمد غازی (عبدو)مہمانان اعزازتھے ۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان، نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹر مخموربخاری نے کی۔ مشاعرے میں ملک بھر سے شعراءکرام نے سندھی میں حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سومرہ دور حکومت میں پیر نور الدین اور پیر صدر الدین جن کے ہاں شاعری مذہب کی تلقین ، تفہیم اور تبلیغ کے لیے تھی وہ لوگوں کو اسلامی تعلیمات لوگوں کی زبان میں دینے کے لیے نظم کا سہارہ لیتے تھے۔ سمہ دور عہد میں پیر حسن کبیر شیخ حماد جمالی اور قاضی قادن ان کے ہاں حمدیہ عناصر ملتے ہیں۔اس کے علاو ہ کلہوڑہ دور سندھی ادب کا روشن دور جسے زریں دور بھی کہا جاتا ہے۔اس دور میں سندھی ادب میں نئی نئی اصناف کا اضافہ ہوا۔اس دور میں اہم شعرا ملتے ہیں جن میں سے قابل ذکر نام شاہ لطیف بھٹائی کا ہے ۔شاہ صاحب کے رسالے کی شروعات ہی حمدیہ بیت سے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ روحل فقیر سچل سرمست ۔بیدل ، بیکس میر عبدالحسین سانگی سید فاضل شاہ اور مرزا قلیچ بیگ کے کلام میں بھی حمدیہ شاعری ملتی ہے۔جدید دور میں بھی حمدیہ شاعری کے اہم نام ملتے ہیں جن میں حاجی احمد ملاح ، عبدالکریم گدائی ابراھیم خلیل شیخ راز شیخ ایاز تنویر عباسی نیاز ھمایونی محمد صدیق مسافر حکیم دین محمد وفائی عابد لغاری عبدالجبار جونیجو سید گل شاہ بخاری اور حکیم دین محمد اکرم بورڑائی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سندھ باب الاسلام کی وجہ سے اسلام کی سب سے پہلے سندھ کی سرزمین پر آمد ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کی ایمان کا حصہ ہے سندھ سے باہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کرنے کے لیے “نعت” اور ثنا کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں مگر سندھ کے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اور محبت کے اظہار کے لیے ایک خاص لفظ دیا جس کو “مولود” کہا جاتا ہے۔مولود لفظ کو عربی میں “نیا پیدا ہوا بچہ” مگر سندھ کے باسیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کو اپنی صفت اور تعریف کا مرکز بنایا۔ مولود شاعری کی اصناف وائی اور کافی کی طرح ہئت اورساخت ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کے وائی اور کافی نے سندھ میں جنم لیا اسی طرح مولود نے بھی مروج ہوا۔مولود یا نعتیہ کلام شاہ عنایت شاہ لطیف بھٹائی ، مخدوم عبدالروف بھٹی غلام محمد بگائی وغیرہ نمایاں نام ملتے ہیں مگر مخدوم عبدالروف بھٹی کو مولود کا موجد بھی کہا جاتا ہے۔سندھی شاعری میں تقریبا ہر چھوٹے بڑے شاعر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت میں پھول نچھاور کیے ہیں۔میں آج کے حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کے تمام شعراءکو خوش آمدیہ کہتا ہوں اور ان کا ممنون ہوں کہ وہ کوڈ19کی مشکل صورت حال کے باوجود مشاعرے میں شریک ہوئے۔ مشاعرے میں ڈاکٹر عابد مظہر(کراچی)، نیاز پنھور(جام شورو)،اختر درگاہی (روہڑی )، احمد سلطان کھوسو(لاڑکانہ)، ارم محبوب (حیدر آباد)، وسیم سومرو(نواب شاہ)، ساحر راھو(شھمیرراہو)، زیب نظامانی (حید رآباد)،اے بی لشاری (کراچی)، کوثر ھالائی (ھالا)اور دیگر نے سندھی زبان میں حمدیہ و نعتیہ کلا م پیش کیا۔


Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Islamabad (P.R). In the blessed month of Ramadan, an online Sindhi Hamdiya and Naatiya Mushaira was organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL). The Presidium consisted of Syed Gul Muhammad Shah Gul (Shahdadkot) and Shabir Hatif (Karachi). Syed Noor Rizvi (Rohri), Dr. Adil Soomro (Sukkur) and Madad Ali Sindhi (Karachi) were the chief guests while Prof. Najma Noor (Khairpur), Sajjad Mirani (Priyalo) and Ghulam Muhammad Ghazi (Abdo) were the guests of honor. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, gave the introductory speech. Dr. Makhmur Bukhari was the moderator. Poets from all over the country recited Hamdiya & Naatiya Poetry in the Sindhi Language.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman,PAL, in his introductory remarks, said that Pir Noor-ud-Din and Pir Sadr-ud-Din, who had poetry for inculcating, understanding and preaching the religion during the Soomra regime, was to impart Islamic teachings in the language of the people. Used to resort to poetry.

He said that Pir Hassan Kabir, Sheikh Hamad Jamali and Qazi Qaden is found with Hamdiya elements in the Sama era. Besides, the Kalhora era is the enlightened era of Sindhi literature which is also called the Golden Age. During this period new genres were added to Sindhi literature. There are important poets of this period, the most notable of whom is Shah Latif Bhattai. Shah Sahib’s magazine starts from Hamdia Bait.

He said that in addition to this, Hamdiya poetry is also found in the speeches of Rohul Faqir Sachal Sarmast-Bedel, Bex Mir Abdul Hussain Sangi Syed Fazil Shah and Mirza Kalich Baig.

Chairman, PAL, further said that even in modern times, there are important names of Hamdiya poetry including Haji Ahmad Mallah, Abdul Karim Gadai Ibrahim Khalil Sheikh Raz Sheikh Ayaz Tanveer Abbasi Niaz Humayun Muhammad Siddique Musafar Hakim Din Muhammad Wafai Abid Leghari Abdul Jabbar Junejo Syed Gul Shah Bukhari and Hakim Din Muhammad Akram Bordai Etc. are noteworthy.

He said that due to Sindh Bab-ul-Islam, Islam has the privilege of being the first to come to the land of Sindh, therefore love for the Holy Prophet (PBUH) is a part of every Muslim’s faith. Outside of Sindh, the words Naat and Sana are used to describe the attributes of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him), but the people of Sindh used a special word to express their love and remembrance of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him). The word Mawlood is a newborn child in Arabic, but the people of Sindh made the birth of the Holy Prophet (PBUH) the center of their admiration and praise.

I welcome all the poets of today’s Hamdiya and Naatiya Mushaira and thank them for participating in the Mushaira despite the difficult situation of Covid 19.

Dr. Abid Mazhar (Karachi), Niaz Panhwar (Jamshoro), Akhtar Dargahi (Rohri), Ahmad Sultan Khoso (Larkana), Iram Mehboob (Hyderabad), Wasim Soomro (Nawabshah), Sahir Raho (Shamir Raho), Zeb Nizamani (Hyderabad), AB Lashari (Karachi), Kausar Halai (Hala) and others presented Hamdiya & Naatiya poetry in the Sindhi language.

Comments are closed.