اہل قلم خواتین سیمینار اور پاکستانی زبانوں کے مشاعرے کا انعقاد

اسلام آباد (پ۔ ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر” اہل قلم خواتین سیمینار“اور ”پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ“منعقد ہوا۔ پروگرام کی صدارت پروین طاہرنے کی۔ وجیہہ قمر، پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت،مہمان خصوصی تھیں۔ یُوکے سے آئی ہوئی مہ جبین غزل انصاری مہمان اعزاز تھیں۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان،نے استقبالیہ پیش کیا۔ فاخرہ بتول ، ڈاکٹر صوفیہ یوسف، ڈاکٹر فرحت جبین ورک، ڈاکٹر فاخرہ نورین، یاسمین حمیدشاہد اور منیلہ ندیم نے اظہار خیال کیا۔ سیمینار کی نظامت نورین طلعت عروبہ نے کی۔ بعدازاں پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں پاکستانی زبانوں کی نمائندہ شاعرات نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی نظامت در شہوار توصیف نے کی۔ وجیہہ قمر، پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے کہا کہ ہماری خواتین لکھاریوں نے ملک میں امن اور رواداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ضرورت اس مر کی ہے کہ ہم خواتین تخلیق کاروں کو مردوں کے برابر مواقع دیں تاکہ وہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھر پور کردار ادکر سکیں۔ خواتین ادب کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ ان کی مزید حوصلہ افزائی سے وہ زیاہ جوش و جذبے سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہر ہ کر سکیں گی۔ ہماری موجودہ حکومت خواتین لکھاریوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے۔مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی بھر پور نمائندگی سے ہم دنیا میں ایک باوقار قوم بن سکتے ہیں۔ میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے تمام اہل قلم خواتین کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور ان کی کامیابی کے لیےدعا گو ہوں۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے کہاکہ ہماری خواتین لکھاریوں نے ہمارے مجموعی شعر و ادب کو وسعت دی اور ثروت مند بنایا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا ، خاص کر ادب کے شعبے میں ان کا کردار مثالی رہا ہے۔چیئرمین اکادمی نے کہا کہ خواتین کی تحریروں کو ہر سطح پر اجاگر کیا جائے گاتاکہ وہ دلجمعی سے سماجی معاملات اور مسائل کی بہتر انداز میں نشاندہی کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ اکادمی کے جملہ منصوبوں میں خواتین لکھاریوں کی نمائندگی کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹریوسف خشک نے کہاکہ بہتر معاشرے کی تشکیل اور نئی نسل کی ذہنی نشوو نما کے لےے خواتین لکھاریوں کی زیادہ حوصلہ افزائی وقت کی ضرورت ہے۔ پروین طاہر نے کہاکہ عورت کو بنیادی حقوق دلانے کے لیے حکومت کو قانون سازی کرنی چاہیے۔ عورتوں کی صحت، تعلیم اور آزادی رائے کو اہمیت دینے سے وہ معاشرے، ملک اور پوری دنیا میں امن و ترقی کے لیے آزادنہ طور پر اپنا کردار ادا کر سکیں گی۔ ہماری خواتین اہل قلم نے پاکستانی شعر و ادب میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔مہ جبین غزل انصاری نے کہاکہ عورت کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا ہے۔ عورت ہی معاشرے کو سدھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فاخرہ بتول نے کہا کہ مردو زن کو اپنے حدود میں رہ کر زندگی گزارنے کا ڈھنگ تو اسلام نے سکھایا ہے، اسی پر عمل کرنے میں ہی کامیابی ہے۔ڈاکٹر صوفیہ یوسف نے کہا کہ مردوں کی بالادستی کی سوچ کے خلاف عورت کو برابری کا حق دینا ہوگا۔یاسمین حمید شاہد نے کہاکہ معاشرے میں عورت اور مرد کے درمیان تفریق کے روےے کو ختم کرنا ہوگا ، تبھی ہمارا معاشرے آگے بڑھ سکے گا۔ فاخرہ نورین نے کہا کہ عورت کو سماجی انصا ف اور برابری کی سطح کے مواقع دینے سے ہمارا معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ منیلہ ندیم نے کہا کہ عورت نے ہر روپ میں اپنا کردار بخوبی نبھایا۔ ہمیں عورت کے مقام کو کھلے دل و دماغ سے تسلیم کرنا چاہےے۔ فرحت جبین نے کہا کہ خواتین کو صحیح معنوں میں برابری کے حقوق دینے سے ہم ترقی یافتہ قوم بن سکتے ہیں۔بعدازاںپاکستانی زبانوں کا مشاعرہ منعقد ہوا جس میں پاکستانی زبانوں کی نمائندہ شاعرات پروین طاہر، عابدہ تقی، فاخرہ بتول ، ڈاکٹر فاخرہ نورین،رفعت وحید، رخسانہ سحر، نورین طلعت عروبہ ،درشہوار توصیف اور دیگر نے اپنا کلام پیش کیا۔

۔اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر” اہل قلم خواتین سیمینار“اور ”پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ“میں ڈاکٹر ناہید قمر، ڈاکٹر صوفیہ یوسف ، یُوکے سے آئی ہوئی مہ جبین غزل انصاری ،وجیہہ قمر، پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و ییشہ ورانہ تربیت، پروین طاہراور نورین طلعت عروبہ اسٹیج پر بیٹھی ہیں۔

۔اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر” اہل قلم خواتین سیمینار“اور ”پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ“میں ڈاکٹر صوفیہ یوسف ، یُوکے سے آئی ہوئی مہ جبین غزل انصاری ، پروین طاہر، ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی، فاخرہ بتول اور نورین طلعت عروبہ اسٹیج پر بیٹھی ہیں۔

۔اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر” اہل قلم خواتین سیمینار“اور ”پاکستانی زبانوں کا مشاعرہ“میں ڈاکٹر ناہید قمر، عابدہ تقی، یُوکے سے آئی ہوئی مہ جبین غزل انصاری ،وجیہہ قمر، پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و ییشہ ورانہ تربیت، پروین طاہر،ثمینہ گل اور درشہوار توصیف اسٹیج پر بیٹھی ہیں۔


Press Release

Islamabad (P.R) “Ahl-e-Qalam Women’s Seminar” and “Poetry of Pakistani Languages” was organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL) on the occasion of International Women’s Day. Program presided over by Parveen Tahir. Wajiha Qamar, Parliamentary Secretary for Federal Education & Professional Training, was the Chief Guest. Mahjabeen Ghazal Ansari from U.K was the guest of honor. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, gave the welcome address. Fakhra Batool, Dr. Sofia Yousaf, Dr. Farhat Jabeen Virk, Dr. Fakhra Noureen, Yasmeen Hameed Shahid and Manila Nadeem expressed their views. The seminar was moderated by Noureen Talat Aruba. Later, a mushaira of Pakistani languages was held in which poetess representing Pakistani languages presented their poetry. Mushaira was moderated by Durr-e- Shehwar Tawseef.

Wajiha Qamar, Parliamentary Secretary for Federal Education & Professional Training, said that our women writers have played an important role in promoting peace and tolerance in the country. “We need to give women creators equal opportunities with men so that they can play a full role in all walks of life,” she said.

She further said that women are doing their part for the betterment of society through literature. With their further encouragement, they will be able to show off their talents with more enthusiasm. Our current government attaches great importance to women writers. With full representation of women in various walks of life, we can become a dignified nation in the world. On the occasion of International Women’s Day, I congratulate all the women writers and wish them success.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, said that our women writers have expanded and enriched our collective poetry and literature. He said that women have worked side by side with men in all walks of life, especially in the field of literature. Identify issues and problems in a better way. He said that the representation of women writers in all the projects of the Academy was being further improved. Dr. Yousuf Khushk said that more encouragement of women writers is needed for the formation of a better society and mental development of the new generation.

Parveen Tahir said that the government should legislate to give basic rights to women. Giving importance to women’s health, education and freedom of expression will enable them to play their role freely for peace and development in the society, the country and the world at large. Our women writers have played an exemplary role in Pakistani poetry and literature.

Later, a poetry recital of Pakistani languages was held in which representative poetess of Pakistani languages includes Fakhra Batool, Dr. Sofia Yousaf, Dr. Farhat Jabeen virk, Dr. Fakhra Noureen, Yasmeen Hamid Shahid, Manila Nadeem, Noureen Talat Aruba, Durr-e-Shehwar Tauseef, Parveen Tahir, recited their poetry.

Mahjabeen Ghazal Ansari said that no society can be formed without women. Women play an important role in improving society.

Fakhra Batool said that Islam has taught men and women how to live within their limits and success is in following it.

Dr. Sofia Yousuf said that women must be given equal rights against the idea of male supremacy.

Yasmeen Hameed Shahid said that the discriminatory attitude between men and women must be eliminated in society, then our society will be able to move forward. Fakhra Noureen said that by giving women opportunities for social justice and equality, our society can develop. Manila Nadeem said that the woman played her role well in every aspect. We must recognize the position of women with an open heart and mind. By giving women equal rights, we can become a developed nation, Farhat Jabeen said.

Later, a poetry recital of Pakistani languages was held in which representative poetess of Pakistani languages Parveen Tahir, Abida Taqi, Fakhra Batool, Dr. Fakhra Noureen, Rifat Waheed, Rukhsana Sehar, Noureen Talat Aruba, Dur-e-Shahwar Tauseef and others recited their poetry.

Comments are closed.