اکادمی ادبیات پاکستان اور یوکرائن سفارت خانہ ، اسلام آباد ، کے زیر اہتمام لیسیا یوکرینکا کی 150 ویں سالگرہ کے سلسلے میں خصوصی تقریب کا انعقاد

لیسیا یوکرینکا کی تقریب نے پاک یوکرائن کی دوستی کو عوامی سطح پر منتقل کردی ہے۔ مارکیعن چوچک،ایمبیسیڈر یوکرائن ایمبیسی

ایسی تقریبات کے انعقاد سے پاک یوکرائن تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ غزالہ سیفی، پارلیمانی سیکرٹری، قومی ورثہ و ثقافت

اکادمی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ادبی تعلقات بڑھانا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی

اکادمی ادبیات پاکستان اور یوکرائن سفارت خانہ ، اسلام آباد ، کے زیر اہتمام لیسیا یوکرینکا کی 150 ویں سالگرہ کے سلسلے میں خصوصی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان، مرید راحمون ، جوائنٹ فیڈرل سیکریٹری ،قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ، جناب مارکیعن چوچک، ایمبیسیڈر، یوکرائن ایمبیسیڈر، غزالہ سیفی ، پارلیمانی سیکرٹری ، قومی ورثہ و ثقافت ،میڈم ٹیٹیاناچوچک ، خاتون اول ، یوکرائن ایمبیسی اور پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ یوسف اسٹیج پر بیٹھے ہیں جبکہ یوکرائن سفارتخانے کی ڈاکٹر اولینا بورڈیلووسکاخطاب کر رہی ہیں۔

اسلام آباد (پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان اور یوکرائن سفارت خانہ ، اسلام آباد ، کے زیر اہتمام لیسیا یوکرینکا کی 150 ویں سالگرہ کے سلسلے میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی ۔ یوکرائن کے ایمبیسیڈر جناب مارکیعن چوچک، اور پارلیمانی سیکرٹری ، قومی ورثہ و ثقافت ،غزالہ سیفی نے موضوع کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ،نے تقریب کا خیرمقدمی خطاب اور تعارف پیش کیا۔ میڈم ٹیٹیاناچوچک ، خاتون اول ، یوکرائن سفارت خانہ،نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے۔ یوکرائن سفارتخانے کی ڈاکٹر اولینا بورڈیلووسکا ،نے لیسیا یوکرینکا کی زندگی اور کام کے بارے میں ڈاکومینٹریز پیش کیں۔ نادیہ ذوالقرنین نے”فوریسٹ سونگ “ کااعلامیہ اردو میں پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ یوسف اور پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان نے لیسیا یوکرینکا کی شخصیت اور فن کے حوالے سے مضامین پیش کیے۔یوکرائن سفارتخانے اور لوک ورثہ کی طرف سے میوزیکل پرفارمنسز پیش کی گئیں۔ مرید راحمون ، جوائنٹ فیڈرل سیکریٹری ،قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، نے اظہار تشکر کیا۔ نظامت منیر فیاض نے کی۔جناب مارکیعن چوچک،ایمبیسڈر یوکرائن ایمبیسی نے کہا کہ لیسیا یوکرینکا کی شاعری کا اردو ترجمہ پاکستان اور یوکرائن کے لیے نئے دروا کرے گا۔ آج کی تقریب نے پاکستان اور یوکرائن کی دوستی کو عوامی سطح پر منتقل کردی ہے۔ میں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین اور قومی ورثہ وثقافت ڈویژن کے تمام اکابرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے شاندار تقریب کااہتمام کیا۔پارلیمانی سیکرٹری ، قومی ورثہ و ثقافت ،غزالہ سیفی نے کہا کہ پاکستان اور یوکرائن گزشتہ 28سالوں سے خوش گوار دوستی کے بندھن میں بندھے ہیں۔دونوںممالک کے باہمی تعلقات کو ترقی دینے کے مواقع موجود ہیں۔ یوکرائن اور پاکستان آنے والے برسوں میں مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ مجھے شعر و ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خوش محسوس ہوتی ہے اور آج یہ خوشی دو چند ہے کہ میں یوکرائن کی بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ لیسیا یوکرینکا کی شاعری پر بات کررہی ہوں۔ یہ میرے لیے اعزاز اور فخر کی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شاعر محبت کی زبان بولتے ہیں۔ امن، محبت اور رواداری کی بات کرتے ہیں۔ شاعر اور شاعری کا سچ کے ساتھ گہرا ربط ہوتا ہے ، وہ سچ جس کا تعلق انسانی احساسات اور جذبات سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں دنیا کے نقشے پر ابھرنے سے پہلے شاعروں کی تخیل سے وجود پاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیسیا یوکرینکا کی شاعری اسی جدوجہد سے عبارت ہے۔انہوں نے کہاکہ 42سال کی عمر میں لیسیا یوکرینکا نے انتہائی شاندار نظمیں تخلیق کیں جو ابھی تک ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہےں اور دنیا بھر میں ان کی پذیرائی ہو رہی ہے جبکہ انہوں نے شاہکار گیت بھی لکھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان نے تقریب کا خیرمقدمی خطاب اور تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ اکادمی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ادبی تعلقات بڑھانا چاہتی ہے۔ ہم یوکرائن کے ساتھ ادبی روابط کو مزید مستحکم کریں گے۔ آج کی یہ خصوصی تقریب جو کہ یوکرائن کی قومی شاعرہ لیسیا یوکرینکا کو150ویں سالگرہ کے حوالے سے ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چیئرمین اکادمی نے کہاکہ لیسیا یوکرینکا ایک ایسی حساس شاعرہ تھیں جس نے مشکل حالات میں زندگی سے پیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ شاعر کا تخیل اپنے علاقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے احساسات اور جذبات کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں ادب اور کلچر کی بنیاد پر متحد رہتی ہیں۔ شاعر ، ادیب ، اہل قلم اپنی قوم کے سچے سفیر ہوتے ہیں۔ معاشی، جغرافیائی یا آدم شماری کے اعتبار سے ممالک میں فرق ہوتا ہے مگر انسانی زندگی ہر جگہ ایک جیسی ہے۔چیئرمین اکادمی نے کہا کہ پاکستان اور یوکرائن کے لوگوں کی کئی ایک قدریں مشترک ہیں۔ دونوں ممالک کے ادب میں آزادی اور جداگانہ حیثیت کے حصول کے لیے پرامید جدوجہد کا تذکرہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ لیسیا یوکرینکا نے گہری سوچ کے حامل انتہائی دلکش گیت تخلیق کیے ہیں۔ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود عالمگیر انسانی احساسات اور جذبہ حب الوطی سے سرشار عوامی امنگوں کی بھر پورترجمانی کی ہے۔ میڈم ٹیٹیاناچوچک ، خاتون اول ، یوکرائن سفارت خانہ،نے خیرمقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ لیسیا یوکرینکا بیسویں صدی کی بہت بڑی شاعرہ تھیں۔ ان کی شاعری فطرت پر مبنی ہے۔ وہ بہت حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کی شاعری ساری دنیا میں پڑھی جاتی ہے اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے۔ ان کی شاعری میں انسانیت ، محبت اور حب الوطنی کے موضوعات بہت اہم ہیں۔ یوکرائن سفارتخانے کی ڈاکٹر اولینا بورڈیلووسکا نے کہا کہ لیسیا یوکرینکا کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا۔ وہ کئی زبانیں جانتی تھیں۔ انہوں نے مشرقی علوم میں خصوصی دلچسپی لی۔ ڈاکٹر صوفیہ خشک نے کہا کہ لیسیا یوکرینکامحبت اور انسانیت کی شاعرہ ہے۔ لیسیا یوکرینکاجدید ادب کے معماروں میں شمار ہوتی ہیں۔انہوں نے کلاسیک ادب کو یوکرائنی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کی تحریروں میں مایوسی کی جگہ امید کا عنصر نمایاں ہے ۔ ڈاکٹر سفیر اعوان نے کہاکہ لیسیا یوکرینکا کی شاعری میں آزادی اور امید اہم حوالے ہیں۔ یوکرائنی ادب، کلچر اور آزادی کی جدوجہد کے حوالے سے لیسیا یوکرینکا کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔


Press Release

Lesya Ukrainka’s ceremony has taken the friendship between Pakistan and Ukraine to the public level. Ambassador of Ukraine, Mr. Markian Chuchuk

Holding such events will further strengthen Pak-Ukraine relations. Ghazala Saifi, Parliamentary Secretary, National Heritage and Culture

PAL seeks to enhance literary relations with all countries of the world. Dr. Yousuf Khushk, Chairman,PAL

ISLAMABAD: Pakistan Academy of Letters (PAL) and the Embassy of Ukraine in Islamabad hosted a special function on the occasion of the 150th anniversary of Lesya Ukrainka. The Ambassador of Ukraine, Mr. Markian Chuchuk, and the Parlimentary Secretary for National Heritage & Culture, Ghazala Saifi, spoke on the subject.

Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, delivered the welcome address and introduction of the event.

Madam Tetiana Chuchuk, First Lady, Embassy of Ukraine, delivered the welcome address. Dr. Olena Bordilovska of the Ukrainian Embassy presented documentaries on the life and work of Lesya Ukrainka. Nadia Zulqarnain presented the Declamation of “Forest Song” in Urdu. Prof. Dr. Sofia Yousuf and Prof. Dr. Safir Awan presented articles on the personality and art of Lesya Ukrainka. Musical performances were presented by the Ukrainian Embassy and Lok Virsa. Mureed Rahmoon, Joint Federal Secretary, National Heritage and Culture Division, expressed his gratitude. Munir Fayyaz was the moderator.
Mr. Markian Chuchuk, Ambassador of the Embassy of Ukraine, said that the Urdu translation of Lesya Ukrainka’s poetry would open new doors for Pakistan and Ukraine. Today’s event has taken the friendship between Pakistan and Ukraine to the public level. I would like to thank the Chairman, PAL and all the dignitaries of the National Heritage and Culture Division for organizing such a wonderful event. Ghazala Saifi, Parlimentary Secretary, National Heritage & Culture, said that Pakistan and Ukraine are enjoying good relations from the last 28 years. We have a great potential for the development of bilateral relations. The relations between Ukraine and Pakistan will develop further in the coming years. She said that it is an immense pleasure for me to speak on poetry and poets and specially to speak on such a globally acknowledged poetic figure like Lesya Ukrainka is yet a moment of great pride for me. Poets speak the language of love, peace and compassion. Poets and poetry deal in truth, the truth of human feelings and emotions. Nations are formed in the imagination and vision of poets before appearing on the map of the world. She said that during her 43 years sojourn in the world she composed such poems that are still read and appreciated everywhere in the world.
Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, while delivering a welcome address and introduction, said that the Academy seeks to enhance literary relations with all countries of the world. We will further strengthen literary ties with Ukraine. He said that I strongly believe that countries may differ in size, population, rate of growth, Economic conditions but always stand united in terms of Literature and literary achievements. Literature reflects human life and with thousands of differences in ways of living and cultural aspects, human life is same everywhere. He said that the literary ties among nations are mandatory, for they help us to know each other and share our common concerns and achievements. He said that in short, Lesya Ukrainka’s entire poetry reflects her strong patriotism and optimism even in difficult hours. I am sure her poetry will open doors of cemented literary relations between two nations. Pakistan is rich in literary traditions. We have the finest poets and writers of the world. The exchange of literary ideas will foster our bilateral relations and we’ll be able to promote people to people contacts well.
Madam Tetiana Chuchuk ,the First Lady, Embassy of Ukraine, said that Lesya Ukrainka was a great Ukrainian poet of the twentieth century. Her poetry is based on nature. She was a very enthusiastic woman. Her poetry is read all over the world and has been translated into many languages. The themes of humanity, love and patriotism are very important in his poetry.
Dr. Olena Bordilovska of the Ukrainian Embassy, said that Lesya Ukrainka belonged to an academic family. She knew many languages. She took a special interest in Oriental studies.
Dr. Sofia Khushk said that Lesya Ukrainka is a poetess of love and humanity. Lesya Ukrainka
is one of the architects of modern Ukrainian literature. She translated classic literature into Ukrainian. There is an element of hope instead of despair in her writings.
Dr. Safir Awan said that freedom and hope are important references in the poetry of Lesya Ukrainka. He said that Lesya Ukrainka’s services to Ukrainian literature, culture and the struggle for independence are unforgettable.

Comments are closed.