اجمل خٹک قومی ادبی سیمینار کا انعقاد

اجمل خٹک نے جدید پشتو نظم میں رنگ و آہنگ اور نئے اسلوب سے ہم عصر شعراء میں ممتاز مقام حاصل کیا۔م ر شفق

اجمل خٹک مثالی پختون اور غیرت و حمیت کے پیکر تھے۔ بخت راواں عمر خیل

اجمل خٹک جدید پشتو نظم کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔ چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک


اسلام آباد(پ ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پشتو زبان و ادب کے نامور ترقی پسند شاعر، ادیب، محقق اور دانشور اجمل خٹک کے گیارویں برسی کی مناسبت سے ”اجمل خٹک قومی ادبی سیمینار“ منعقد ہوا۔ صدارت م ر شفق نے کی۔ مہمانان خاص میں بخت راواں عمر خیل اور ڈاکٹر عبد اللہ جان عابد، جب کہ مہمانان اعزاز میں محمد حفیظ خان اور محمد حمیدشاہدتھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی ادبیات نے ابتدائیہ پیش کیا۔ عبد الحمید زاہد، ڈاکٹر ضیا ء الرحمن بلوچ، ڈاکٹر حاکم علی برڑو اور سردار یوسف زئی نے اظہار خیال کیا۔ نظامت اقبال حسین افکار نے کی۔ ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی ادبیات نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجمل خٹک جدید پشتو ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ پشتو کے جدید ادب میں اگر چہ اُن کی پہچان کا بنیادی حوالہ اُن کی شاعری ہے تاہم اُن کے ادبی جہتیں اور بھی ہیں۔ وہ افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، کالم نگار، محقق اور نقاد بھی تھے۔ اجمل خٹک نے ترقی پسند تحریک کے ممتاز رہنما کے حیثیت سے مظلوم اور پس ماندہ طبقوں کے حقوق کے لیے مسلسل آواز اُٹھائی۔ م ر شفق نے صدارتی خطاب میں کہاکہ اجمل خٹک بلاشبہ پشتو زبان کے شاعر جمال و جلال تھے پشتو ادب کے حوالے سے اجمل خٹک ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ترقی پسند اور مزاحمتی ادب کے حوالے سے پختون خواہ میں اجمل خٹک کو وہ مقام حاصل تھا جوپنجاب میں فیض سندھ میں شیخ ایاز اور بلوچستان میں میر گل خان نصیر کوملا۔ انھوں نے پشتو زبان کے جدید نظم میں رنگ و آہنگ اور نئے اسلوب سے دیگر ہم عصر شعراء میں ممتازمقام حاصل کیا۔بخت راواں عمر خیل نے کہا کہ اجمل خٹک ایک مثالی پختون اور غیرت اور حمیت کے پیکر تھے۔ وہ پشتو نظموں و نثر اور اردو کے باکمال تخلیق کار تھے۔ وہ ایسے سیاست دان تھے جونہ خود پسند تھے اور نہ خود پرست۔ اُن کے لغت میں میں کا لفظ نہیں تھا۔ڈاکٹر عبد اللہ جان عابد نے کہا کہ اجمل خٹک کا کلام عوامی لبو لہجے کا شاہکار ہے۔ اس میں انھوں نے ایک کامیاب سیاستدان کی طرح عوام سے عوام کے لہجے میں عوام کی سوچ کے مطابق بات کہی۔ یہاں تک کہ اپنی نظموں کے موضوعات اور عنوانات بھی عوامی سوچ اور اپروچ (Approach) کے پیش نظر چنے۔ گنجلک فلسفیانہ انداز اور ثقیل الفاظ اور محاورات سے اجتناب برتا۔ پشتون معاشرے کو خوشحال خان خٹک کی طرح انتہائی فخر یہ انداز میں شاعری کا موضوع بنایا۔ محمد حفیظ خان نے کہا کہ اجمل خٹک نے اپنی شاعری اور فکشن میں مزاحمت کو انقلابی رنگ دیا بلاشبہ انھوں نے پشتونوں کو شناخت دی۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ اجمل خٹک ایک ادیب شاعر اور سیاست دان سے پہلے ایک صوفی تھے وہ قوم پرست مارکسز لیڈر اور پشتوزبان کے باکمال شاعر تھے۔ عبد الحمید زاہد نے کہا کہ اجمل خٹک کی شاعری سماجی شعور اور عصری ضمیر کی للکار ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن بلوچ نے کہا کہ اجمل خٹک ایک خوددار اور درویش صفت انسان تھے۔ڈاکٹر حاکم علی برڑو نے کہا کہ اجمل خٹک ملک کے ممتاز سیاست دان اور منفرد، لہجے کے شاعر تھے۔ سردار یوسف زئی نے کہا کہ اجمل خٹک بے ضرر اور اعلیٰ درجے کے انسان تھے۔طارق دانش نے اجمل خٹک کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ اسلم سالک، غنی گل اور شاہد اختر نے اجمل خٹک کے کلام کو ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا۔

Comments are closed.