انتظار حسین قومی ادبی سیمینار کا انعقاد

انتظار حسین مسلمانوں کی تہذیب کا احیا ءچاہتے تھے۔ پروفیسر فتح محمد ملک

اتنظار حسین کی تحریروں کو سمجھنے کے لیے علم و تحقیق کی ضرورت ہے۔ کشور ناہید

انتظار حسین نے اپنی تحریروں میں تہذیبی تشخص کواُجا گر کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی


اسلام آباد(پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام رجحان ساز، ناول نگار، افسانہ نگار، تنقید نگار ، ادیب، محقق اور دانشور انتظار حسین کی پانچویں برسی کی مناسبت سے انتظار حسین قومی ادبی سیمینارمنعقد ہوا۔ صدارت پروفیسر فتح محمد ملک نے کی۔ کشور ناہید مہمان خصوصی تھیں۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان ،نے ابتدائیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، محمد حمید شاہد، پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ یوسف، ڈاکٹر صلاح الدین درویش، ڈاکٹر فرید حسینی اور ڈاکٹر سائرہ علوی نے اظہار خیال کیا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔ ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان، نے کہا کہ انتظار حسین نے افسانے کی ابتداءباقی ہم عصروں کی طرح حقیقت نگار ی سے کیا لیکن اپنے موضوعات کے حوالے سے الگ راستہ چنا۔ انہوں نے کہا کہ انتظار حسین نے قیام پاکستان کے دوران اور بعد میں تہذیب و ثقافت کی شکست و ریخت اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کو انتہائی فنکارانہ انداز میں اپنے تخلیقی تجربے کا حصہ بنایا جو انہی کا خاصا ہے۔ انتظار حسین کا تخلیقی تجربہ دیگر افسانہ نگاروں سے تکنیکی و اسلوبیاتی اور فکری معانیاتی سطح پر یکسر مختلف اور جدا ہے۔ بلاشبہ وہ صاحب اسلوب اور ہمہ جہت ادیب تھے۔ انہوں نے ناول ، افسانہ ، سفر نامہ ، سوانح نگار ی ، تراجم اور کالم نویسی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اُن کی کہانی دیو مالائی اور طلسماتی فضا سے شروع ہو کر ہماری جدید انسانی زندگی سے جاملتی ہے۔ اُن کے افسانوں میں آخری آدمی، زرد کتا اور شہر افسوس نمایاں حیثیت کے حامل ہیں جبکہ بستی، تذکرہ اور آگے سمندر ہے قابل ذکر ناول ہیں۔پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ انتطار حسین ہمارے زمانے کے آدمی نہیں تھے۔ وہ خوابوں کو حقیقت سمجھتے تھے ۔ وہ اپنے ماضی کے خوابوں میں گم رہتے تھے اور اس سے اُن کا فن نکلتا ہے ۔ انہوں نے جدیدیت اور ترقی پسند تحریک سے استفادہ کرتے ہوئے اُن سے کنارہ کشی اختیار کیا۔ وہ مسلمانوں کی تہذیب کا احیاءچاہتے تھے ۔ وہ ہمارے زمانے میں رہ کر مسلمانوں کے روشن ترین دور کو یاد کرتے رہے۔ قیام پاکستان ہی اُن کا پہلا خواب تھا۔

کشور ناہید نے کہا کہ انتظار حسین کی تحریروں میں ایک خاص قسم کی لذت پائی جاتی ہے۔ اُن کے افسانوں اور ناولوں کو سمجھنے کے لیے علم اور تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بستی میں آخری فقرہ بشارت کی گھڑی آگئی ہے، انتہائی معنی خیز ہے۔ انہوں نے اُن کے ناولوں تذکرہ اور آگے سمندر ہے کے پس منظر کو پیش کیا۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے کہا کہ انتظار حسین بڑے وضع دار انسان تھے ۔ بلاشبہ وہ بڑے فکشن نگار تھے۔ وہ لکھنے والے ہر لفظ کی قدر و قیمت سے واقفیت رکھتے تھے ۔ محمد حمید شاہد نے کہاکہ اگر انتظارحسین کو اردو فکشن کی روایت میں رکھ کر دکھایا جائے تو انتظار حسین کا مقام بالکل جدا اور اس کا قداونچا دکھائی دینے لگتا ہے۔ آخری آدمی، زرد کتا اور شہر افسوس، جیسے شاہکا ر افسانے ہی ان کے فن کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ یوسف نے کہا کہ انتظار حسین نے اپنی فکشن میں جدید مغربی تکنیک اور کھتا کا خوبصورت استعمال کیا۔ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے کہاکہ انتظار حسین نے تہذیب کی جڑوں میں اپنا فن، ہنر سب کچھ کھپایا۔ وہ تہذیب کے علمبردار اور تہذیب کے امانت دار تھے۔ وہ تہذیب کے حسن سے اتقاءچاہتے تھے ۔ڈاکٹر فرید حسینی نے کہا کہ انتظارحسین بصیرت اور دانائی سے لبریز کہانیاں تخلیق کرنے والے فنکار تھے۔ ان کا فن فنی معیارات پر پرکھا جائے تو وہ بلاشک و شبہ اردو کے کامیاب فکشن نگار ہیں۔ڈاکٹر سائرہ علوی نے کہا کہ دنیاجسے انتظارحسین کے نام سے جانتی ہے ،و ہ میرے انتظار انکل تھے۔ لفظ انکل ان کے اور میرے درمیان ، ان کے اور میرے والدین کی 65سالہ دوستی کا گہرا ربط بھی ہے اور ہماری سماجی وتہذیبی روایات کا امین بھی ۔ اس لفظ کے ناطے وہ میرے شفیق بزرگ تھے لیکن اس کے ساتھ ہی بے پناہ محبت کرنے والے مخلص دوست بھی تھے۔ فریدہ حفیظ نے انتظار حسین کے ساتھ بیتے دنوں کو تازہ کیا۔

Pakistan Academy of Letters, Islamabad

Press Release

Intezar Hussain wanted to revive Muslim civilization. Prof. Fateh Mohammad Malik

Knowledge and research are needed to understand the writings of Intezar Hussain. Kishwar Naheed

Intezar Hussain revealed his cultural identity in his writings. Dr. Yousuf Khushk, Chairman,PAL

Islamabad (P.R) Intezar Hussain National Literary Seminar was organized by Pakistan Academy of Letters (PAL) on the occasion of the fifth anniversary of Intezar Hussain, a trend-setter, novelist, novelist, critic, writer, researcher and intellectual.

Presided over by Prof. Fateh Mohammad Malik. Kishwar Naheed was the special guest. Dr. Yousuf Khushk, Chairman, PAL, gave the introductory speech. Dr. Inam-ul-Haq Javed, Mohammad Hameed Shahid, Prof. Dr. Sofia Yousaf, Dr. Salahuddin Darwish, Dr. Farid Hussaini and Dr. Saira Alvi and Farida Hafeez spoke on the occasion. Mehboob Zafar was the moderator.

Dr Yousuf Khushk, Chairman, PAL, while delivering the welcome address said that Intezar Hussain did the fiction with realism like the rest of his contemporaries but choose a different approach to your topics. He said that Intezar Hussain made the collapse of civilization and culture during and after the establishment of Pakistan and the resulting events and events a part of his creative experience in a very artistic way which is his specialty. Intezar Hussain’s creative experience is radically different from other fiction writers on technical, stylistic and intellectual levels. Undoubtedly, he was a man of style and versatility. He proved his mettle in novels, fiction, travelogues, biographies, translations and columnists. His story begins with the giant Malay and magical atmosphere and unfolds in our modern human life. The last man, the yellow dog and the city of sadness are prominent in his fiction, while Basti, Tazkira and Aage Samandar Hai are notable novels.

Prof. Fateh Mahammad Malik said that Intezar Hussain was not a man of our time. They made dreams come true. He was lost in the dreams of his past and this is where his art comes from. He took advantage of the modern and progressive movement and withdrew from it. He wanted to revive Muslim civilization. He lived in our time and remembered the brightest era of Muslims. Establishment of Pakistan was his first dream.

Kishwar Naheed said that there is a special kind of pleasure in the writings of Intezar Hussain. Understanding their fiction and novels requires knowledge and research. she said that the last word of good news has come in the Basti, it is very meaningful. She mentions his novels Tazkira and Aage Samandar Hai.

Dr Inam-ul-Haq Javed said that Intezar Hussain was a very elegant man. He was, of course, a great fiction writer. He knew the value of every word he wrote.

Mohammad Hameed Shahid said that if Intezar Hussain is portrayed in the tradition of Urdu fiction, then Intezar Hussain’s position is completely different and his stature seems to be high.The last man, the yellow dog and the city of sorrow, such as Shahkar’s fiction, determine the value of his art.

Prof. Dr. Sofia Yousuf said that Intezar Hussain used modern western techniques and khatta beautifully in his fiction.

Dr. Salah-ud-Din Darwaish said that Intezar Hussain spent his art and skill in the roots of civilization. He was a pioneer of civilization and a trustee of civilization. He wanted to live in the beauty of civilization.

Dr. Farid Hussaini said that Intezar Hussain was an artist who created stories full of insight and wisdom. If his art is judged by artistic standards, then he is undoubtedly a successful Urdu fiction writer.

Dr. Saira Alvi said that the world knows him by the name of Intezar Hussain, he was my uncle. The word “uncle” has a strong connection between him and me, his and my parents’ 65-year friendship, and the custodian of our social and cultural traditions. By that word, he was my kind elder but at the same time, he was a sincere friend who loved me immensely.

Farida Hafeez refreshed her days with Intezar Hussain.

Comments are closed.