قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری کی ملی و ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔چیئرمین اکادمی ادبیات ڈاکٹر یوسف خشک

اسلام آباد(پ۔ر)قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری کی ملی اورادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خُشک نے نامور شاعر اور قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کے 121ویں یوم ولادت کے موقع پر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حفیظ جالندھری نےاپنی ذہانت ، وسیع مطالعے اور مسلسل ریاضت سے اُردو کے نامور شعراء میں اپنی شناخت بنائی۔ چیئرمین اکادمی نے کہا کہ حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئےقومی ترانے کا ایک ایک لفظ ہماری قوم اور وطن سے محبت کی عکاسی کرتاہے، اُنہوں نے کہاکہ قومی ترانے نے ہمیں من حیث القوم ایک وحدت میں پرویا ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ حفیظ جالندھری کی شاعری، مذہب،حب الوطنی اور انسانی اقدار کی پاسداری کے جذبے سے مملو ہے، حفیظ جالندھری نے تحریک آزادی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور اپنی انقلابی شاعری سے لوگوں کے دلو ں کو گرمایا، اور بیداری کا شعور اُجاگر کیا۔شہرہ آفاق تصنیف شاہنامہ اسلام حفیظ جالندھری کا قابل ذکر کارنامہ ہے۔ اُن کے دیگر شعری تصانیف میں نغمہ زار ، سوزوساز، تلخابہ شیریں اور چراغ سحر شامل ہیں ۔ ان کی ملی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت وقت نےانہیں حسنِ کارکردگی اورہلال امتیاز جیسے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ حفیط جالندھری کی ملی اور ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔

Comments are closed.