اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام جدید اردو اور سندھی شاعر شیخ ایاز کی 23ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ آن لائن شیخ ایاز قومی ادبی سیمینار

کوئی تخلیق کار مقامی ہوئے بغیر آفاقی نہیں ہو سکتا۔ افتخار عارف

وہ صدیوں کا شاعر تھا اور صدیوں پر محیط رہے گا۔ تاج جویو

شیخ ایاز نے اپنے فکر و فن اور ادبی سرمایہ سے سندھی ادب کو ثروت مند بنایا۔ ڈاکٹریوسف خشک، چیئرمین اکادمی


اکادمی کے زیر اہتمام آن لائن شیخ ایاز قومی ادبی سیمینار میں ڈاکٹر حاکم علی برڑو، ڈاکٹر یوسف خشک، افتخار عارف،محبوب ظفر اور ڈاکٹر ضیاالرحمن بلوچ اسٹیج پر بیٹھے ہیں

اکادمی کے زیر اہتمام آن لائن شیخ ایاز قومی ادبی سیمینار میں ڈاکٹر حاکم علی برڑو، ڈاکٹر یوسف خشک، افتخار عارف،محبوب ظفر اور ڈاکٹر ضیاالرحمن بلوچ اسٹیج پر بیٹھے ہیں۔

اسلام آباد(پ۔ر):کوئی تخلیق کار مقامی ہوئے بغیر آفاقی نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کا اظہارافتخار عارف نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام جدید اردو اور سندھی شاعر شیخ ایاز کی 23ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ آن لائن شیخ ایاز قومی ادبی سیمینار میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ مجلس صدارت میں تاج جویوبھی شامل تھے۔ فاطمہ حسن اور مدد علی سندھی مہمانان خصوصی جبکہ ادل سومرو اور ایاز گل مہمانان اعزازتھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ احمد سلیم، ڈاکٹر غفور میمن،ڈاکٹر انور ھکڑو، ڈاکٹر اسحاق سمیجو، ڈاکٹر عبدا للہ جان عابد، ڈاکٹر فیاض لطیف ، ڈاکٹر مخمور بخاری، محبوب ظفراور ڈاکٹر ضیاءالرحمن بلوچ نے اظہارخیال کیا۔ نظامت ڈاکٹر حاکم علی برڑونے کی۔ افتخار عارف نے کہا کہ شیخ ایاز اپنی دھرتی اور اپنے عوام سے جڑے ہوئے تھے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کے بعد وہ سندھی زبان کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ پاکستانی ادب کی مجموعی شناخت فیض ، شیخ ایاز، گل خان نصیر، اجمل خٹک، جانباز جتوئی اور استاد دامن کے بغیر نامکمل ہے۔ تاج جویو نے کہا کہ شیخ ایاز ماضی اور حال کے ترجمان اور مستقبل کے نقیب شاعر ہیں۔ انہوں نے سندھی کی کلاسیکی شاعری کا احیاکیا تھا۔ انہوں نے قدیم اصناف کو جدید اصناف میں تبدیل کیا۔ انہوں نے دنیا کی شاعری کی اصناف سے اپنی زبان کی شاعری کو وسعت بخشی۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ شیخ ایاز نے اپنے فکر وفن اور ادبی سرمایہ سے سندھی ادب کو ثروت مند بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ ایاز بجا طور پر سندھی ادب کے لیے راہ ساز ادیب کا کردار ادا کیا۔ ان کی مجموعی تخلیقات پسے ہوئے طبقات اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بھر پور ترجمانی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مجموعی ادبی تاریخ شیخ ایاز کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ چیئرمین اکادمی ، ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ اکادمی ادبیات کے اشاعتی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار کے تحت شائع کردہ کتاب شیخ ایاز شخصیت اور فن معروف محقق ڈاکٹر انور فگار ھکڑو نے تحریر کی ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 2006میں شائع ہوا تھا۔ شائقین ادب کے اصرار پر اس کا دوسرا ایڈیشن ترامیم و اضافے کے ساتھ دوبارہ شائع ہوا جس کی تدوین کا کام فیاض لطیف چانڈیو نے کیا۔ یہ کتاب اکادمی میں دستیاب ہے۔ فاطمہ حسن نے کہا کہ شیخ ایازکی شاعری روایت سے سفر کرتے ہوئے عصری شعری تقاضو ں کو بھی پورا کرتی ہے۔ سندھی اساتذہ کے اعلانیہ خوشہ چینی کرتے ہیں لیکن انہیں اپنے عہد کی رو سے بھی جوڑ دیتے ہیں۔ میں نے ان کی نثری نظموں کے تراجم کیے ہیں۔ شیخ ایاز کی قوت تخلیق ایک بیش بہا عطا ہے۔ ان کی شاعری اپنے پھیلاﺅ میں عہد حاضر کی وسعتوں کو سمیٹ لیتی ہے۔ مدد علی سندھی نے کہا کہ شیخ ایاز نہ صرف سندھی کے بڑے شاعرہیں بلکہ اردو ادب میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پاکستانی ادب کی جن لوگوں نے خدمت کی اور حقوق آزادی کے لےے صعوبتیں برداشت کیں ان میں شیخ ایاز کا نام نمایاں ہے۔ ادل سومرو نے کہا کہ شیخ ایاز اپنی آفاقی شاعری کی وجہ سے ہر دور میں مقبول رہا اور مقبول رہے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کی نئی فکری جہتیں ظاہر ہوں گی۔ ایاز گل نے کہا کہ شیخ ایاز صدیوں کے شاعر ہیں۔ ان کے فکر و فن کے اثرات دیرپا ہیں۔ وہ سندھی زبان کے باکمال شاعر ہیں، موجودہ دور میں ان کے پائے کا کوئی اور شاعر نظر نہیں آتا۔ ڈاکٹراسحاق سمیجونے کہا کہ شیخ ایازنے اپنی شاعری میں تصورات اور خیالات کو ایک نئی دنیا سے منسلک کیا اور ایک نئی کوشش اور لغات سے روشنا س کیا۔ وہ کسی بھی فکر و موضوع کے اظہار میں مکمل طورپر باصلاحیت دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ہر ایک صنف سخن ایک نئے انقلاب سے تعبیر کی جا سکتی ہے۔ احمد سلیم نے کہا کہ شیخ ایاز کو اس کی شاعری سے اور اس کی شاعری کو انسانی زندگی سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ، ہر انسانی درد کو اس نے سندھی لوگوں کے درد کی نسبت سے جانا اور پہچانا ہے۔ اس لیے اس کی زندگی اور شاعری کو جاننے سے سندھ کو جاننا پڑے گا۔ سندھ کو جان کر ایاز نے پوری دنیا کو سمجھا۔ ڈاکٹر انور ھکڑو نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے اردو اور سندھی شعر و ادب کے شہرہ آفاق تخلیق کار شیخ ایاز پر اکادمی کے اشاعتی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار کے تحت کتاب شیخ ایاز شخصیت اور فن تحریر کی۔ سیمینار میں ڈاکٹر غفور میمن، ڈاکٹر عبدا للہ جان عابد، ڈاکٹر فیاض لطیف ، ڈاکٹر مخمور بخاری، محبوب ظفر, ڈاکٹر ضیاءالرحمن بلوچ اور سندھو پیرزادونے بھی اظہار خیال کیا اور
کہا کہ شیخ ایاز نے سندھی زبان و ادب کو مزین کیا اور سندھ دھرتی اور تہذیب وثقافت کو آفاقی بنایا۔ وہ بین الاقوامی ادب پر گہری نظر رکھتے تھے اور نئے نئے ادبی رجحانات اور تحریکوں سے واقف تھے۔

Islamabad (P.R). “No creative writer can be Universal without being recognized locally. Shekh Ayaz was the most prominent and well recognized Sindhi poet after Shah Abdul Latif Bhittai and Sachal Sarmast” these were the views expressed by Iftikhar Arif in his presidential address during the online Sheikh Ayaz National Literary Seminar organized by Pakistan Academy of Letters (PAL) on the occasion of the 23rd anniversary of modern Urdu and Sindhi poet Sheikh Ayaz on 4th January, 2021. Taaj Joyo was of the view that“Sheikh Ayaz was the poet who converted the primitive genres of poetry into innovative/modern genres”.

The welcoming address was delivered by Dr Yousuf Khushk meritorious Prof. Chairman PAL. “Shiekh Ayaz through his creative artistic thinking and vision as well as literary achievements made Sindhi literature more enriched, prolific and worth mentioning throughout the world. He also paved the way for the writers of Sindhi literature. His writings mostly addressed issues of ill-treated classes and oppressed strata of society. He further said that literary history is overall incomplete without mentioning Sheikh Ayaz.

Ahmad Saleem, Dr. Ghafoor Memon, Dr. Anwar Hakkaro, Dr. Ishaq Samejoo, Dr. Abdullah Jan Abid, Dr. Fayyaz Latif, Dr. Makhmour Bukhari, Mehboob Zafar, Dr. Zia-ur-Rehman Baloch and Sindhoo Perzado also expressed their views. The Seminar was conducted by Dr Hakim Ali Bararo. The most well-known writers and poets participated as guests of honor in the Seminar.

Comments are closed.