اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام یوم قائد کے موقع پر قومی سیمینارکا انعقاد

قائد اعظم کے فرمودات اور اُصولوں پرعمل کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے۔پروفیسر فتح محمد ملک
پاکستانی ادب ہمارے خوابوں کا آئینہ دار ہے۔ افتخار عارف
قائد اعظم ایک بہت بڑے مدبر اور سیاستدان تھے ۔ ڈاکٹر احسان اکبر
ہمیں قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان کی تعمیر وتشکیل کے لیے کام کرنا ہے۔ڈاکٹر یوسف خُشک
یوم قائد کے موقع پراکادمی ادبیات پاکستان میں دانشوروں وا دباء نے مل کر قائد اعظم کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔
اسلام آباد(پ۔ر) قائد اعظم کے فرمودات اور اُصولوں پرعمل کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے ۔ان اخیالات کا اظہارپروفیسر فتح محمد ملک نے اکادمی ادبیات پاکستان کےزیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار “ہم پاکستانی “(ادب میں پاکستانیت کا اظہار )کے موضوع پر صدارتی خطاب میں کیا ، افتخار عارف ، ڈاکٹر اسلم انصاری ،مجلس صدارت میں شامل تھے جبکہ ڈاکٹر احسان اکبر، امجد اسلام امجد اور منیر احمد بادینی مہمانانِ خصوصی تھے۔سیمینار میں پاکستانی زبانوں کے نمائندہ اہل قلم میں محمد حسن حسرت (گلگت بلتستان) ڈاکٹر روبینہ ترین (پنجاب) ڈاکٹر ساجد اعوان(اسلام آباد) منیر احمد بادینی (بلوچستان)نیاز پنھور اور خواجہ حیدر رضی (سندھ) اباسین یوسفزئی (خیبر پختونخوا)، احمدعطاء اللہ (کشمیر)، فرحت جبین ورک( اسلام آباد) سے شامل تھے، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے سامعین اور ان لائن شرکا کو خوش آمدید کہنے کے موضوع کے حوالے سے ابتدائی گفتگو کی ، رباب تبسم نے نظامت کی ، پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ قائد اعظم کے فرمودات اور اُصولوں پر عمل کرنے میں ہماری کامیابی ہے۔ افتخار عارف نے کہا کہ اقبال اور قائد اعظم فکرودانش اور نظریات کے حوالے سے آپس میں جڑے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نئی نسل کوقائد اعظم کی سوچ اور فکر سے آگاہی دیں۔ ڈاکٹر اسلم انصاری نے کہا کہ قائد اعظم حیرت انگیز ، حیرت آفرین شخصیت کے مالک تھے، اُنہوں نے ہماری اجتماعی خودی کو منظم کیا، اورقومی شعور کو بیدار کیا۔ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ قائد اعظم ایک بڑے مدبر اور سیاستدان تھے اُن کے دشمن بھی اُن کی صلاحیتوں کے معترف تھے اُن کی اَن تھک جدوجہد سے ہی ہمیں پاکستان نصیب ہوا۔ڈاکٹریوسف خُشک نے کہا کہ ہم ہر سال قائد اعظم کی سالگرہ اس لیے مناتے ہیں کہ کیا ہم قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان کی تعمیر و تشکیل کر پارہے ہیں ۔ اور ہم اپنی منزل سے کتنے دور ہیں ، اس حوالے سے ہمیں خود کا محاسبہ کرنا چاہیے ، اُنہوں نے کہا کہ علامہ اقبا ل نے خطبہء الہٰ آباد میں پاکستان کانقشہ پیش کیا ، اور 23مارچ 1940ء کوقرارداد پاکستان منظور ہوئی ، چیئرمین اکادمی ادبیا ت پاکستان نے کہا کہ پاکستانی زبانوں کا ادب تحریک پاکستان اورملی جذبوں سےبھرا پڑاہے۔ امجد اسلام امجد نے کہا کہ اقبال اور قائد اعظم دونوں نئی نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے، ہمیں چاہیے کہ اپنی نئی نسل کو جدید دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کریں۔منیر احمد بادینی نےکہا کہ بلوچی ادب میں خدابخش مری اور گل خان نصیر نے بلوچی تہذیب و اقدار کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔محمد حسن حسرت نے گلگت بلتستان میں ملی شاعری پر ، ڈاکٹر روبینہ ترین نے پاکستان کی تعمیر و تشکیل میں شاعرات کاحصہ پر، ڈاکٹر ساجد اعوان نے Quaid’s Vision of Pakistan: Secular or Theocratic ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے جدید پشتو شاعری میں وطن سے محبت پر، احمدعطاء اللہ نے کشمیر کی آزادی میں اہل قلم کا کردار پر،فرحت جبین ورک نے پاکستانی شاعری میں ذکر قائد کے موضوعات پر اپنے مقالات پیش کئے ، جن سے حاضرین ، سامعین اور آن لائن لوگوں کی بڑی تعداد مستفید ہوئی ۔

Comments are closed.