اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن عالمی نعتیہ شاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی آن لائن نعتہ مشاعرہ میں پروفیسر جلیل عالی، ڈاکٹریوسف خشک، چیئرمین اکادمی، محبوب ظفر سٹیج پر بیٹھے ہیں

اسلام آباد (پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام بین الاقوامی آن لائن نعتہ مشاعرہ ان دنوں اللہ اور حضرت محمدﷺ سے محبت اورعقیدت کا باعث ہے۔ اللہ پاک نبی کریمﷺ کے صدقے میں ہماری مشکلات کو آسان فرمائے اور ہماری قوم اور پوری دنیا کو کرونا سے بچائے۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لان عالمی نعتیہ مشاعرہ میں مہمان خصوصی شبلی فراز، وفاقی وزیر، اطلاعات و نشریات نے پیغام کے ذریعہ کیا۔ صدارت فیصل آباد سے ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ مہمانان اعزاز ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر تحسین فرقی، صبیح رحمانی اور پروفیسر جلیل عالی تھے۔ ڈاکٹریوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے ابتدایہ پیش کیا۔ محبوب ظفر نے نظامت کی۔

شبلی فراز نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہم سب مسلمانوں کو زیادہ عزیز ہے، اللہ کے حبیبﷺ کا مہینہ ہے اور نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ مسلمانوں کے دل اس مہینے میں خاص طور پر عبادات و اذکار کی طرف راغب ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹتے ہیں۔ نعت گوئی کا عمل ہمارا مذہبی مظہر بھی ہے اور تہذیبی پہچان بھی۔ حبِ رسولﷺ نہ صرف ہمارا دینی تقاضا ہے بلکہ ہماری تہذیبی اور ثقافتی اقدار میں بھی شامل ہے۔ نعتیہ محفل نہ صرف اہل پاکستان اوردنیا بھر سے آن لائن شامل ہونے والے شعرا اور ناظرین کے مذہبی اور روحانی جذبات کی سیرابی کا سامان ہے بلکہ اس تقریب کی ادبی جہت بھی قابل ستائش و تحسین ہے جس کے ذریعے شعرائے کرام کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھی اظہار کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے محدود وسائل میں رہتے ہوئے گذشتہ چند ہفتوں میں آن لائن پروگراموں میں سماجی فاصلے کے اصول کو نظرانداز کیے بغیر جس طرح پروگراموں کو جاری رکھا ہے، اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر یہ سرگرمیاں اور بھی زیادہ توانائی اور ولولے کے ساتھ جاری و ساری رہیں گی۔

ڈاکٹر ریاض مجید نے کہا کہ با بائے اُردو کی تصنیف، اُردو کی بتدائی نشوونما میں صو فیا ئے کرا م کا حصہ سے، قدیم دکنی مثنویوں کے آغاز کے نعتیہ اشعار سے، عہدِ حاضر کی طویل یک کتابی نعتوں تک اُردو شاعری کی تخلیقی کوششوں کی ایک تاریخ ہے جس نے نعتیہ روا یت کی آبیا ری کی ہے جیسے جیسے اُردو زبان اُردو شاعری پروان چڑھی ہے ویسے ویسے اس میں سیرتِ رسول کے بیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عقیدت و محبت کے اظہار کے نمو نے نظر آتے ہیں۔ یہ نمونے ایک روایت کے طور پر ہر دور، دبستان، علاقے کی اُردو شاعری میں کم و بیش موجود ہیں جب کو ئی با کما ل شا عر ادھر متو جہ ہو اہے تو اس نے اس روایت کو اپنی فنی مہارت سے رجحان ساز اور ثروت مند کیاہے ۔ئے شاعروں نے کثرت کے سا تھ غزل ہی کے اسلوب اور پیرائے میں نعت کہی اور مسلسل کہہ رہے ہیں۔ اُردو شاعری کی روایت ہی کے آئینے میں اُردو نعت کی بھی روا یت جلوہ گرہوتی ہے۔

ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے کہا کہ نعت شاید دنیا کی وہ واحد صنف ہے، جو دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں لکھی گئی ہے۔ دنیا کی ہر وہ زبان، جسے مسلمان بولتے اور سمجھتے ہیں، خواہ ان کی تعداد بہت تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، اس زبان میں نعت موجود ہے۔ اس کی وجہ مدحت رسول ﷺ ہرمسلمان کا جزو ایمان ہے۔ دیگراصناف کی طرح نعت بھی پاکستانی زبانوں میں عربی اور فارسی ہی کے توسط سے آئی۔ پاکستان کی شاید ہی کوئی ایسی زبان ہو جس میں نعت نہ لکھی گئی ہو، یہاں تک کہ ان زبانوں میں بھی جن میں باقاعدہ تحریری ادب موجود نہیں وہاں بھی نعت فوک شاعری کی صورت میں موجود ہے۔ ہماری قومی زبان اردو میں نعت گوئی کا آغاز اردو شاعری کے آغاز کے ساتھ ہی ہوگیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ صرف مسلم شعرا پر ہی موقوف نہیں بے شمار غیر مسلم شعرا نے بھی حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں۔

ویڈیو لنک کے ذریعہ اسلام آباد اور راولپنڈی الیاس بابر اعوان، پروین طاہر، تبسم اخلاق، پروفیسرجلیل عالی، جنید آذر، حسن عباس رضا، شازیہ اکبر،عائشہ مسعود ملک، نسیم سحر، لاہور سے آسناتھ کنول، ڈاکٹرتحسین فراقی، ڈاکٹر حمیدہ شاہین، ڈاکٹر خورشید رضوی، عنبریں صلاح الدین، ڈاکٹرفخر الحق نوری، یاسمین حمید، ڈیرہ غازی خان سے ڈاکٹرنجمہ شاہین کھوسہ، سرگودھا سے ڈاکٹر خالد ندیم، ڈاکٹر فرح شاہ، ڈاکٹر ہارون رشید، فیصل آباد سے شہزاد بیگ، سندھ سے علی گل میرانی، کراچی سے آفتاب مضطر، صبیح رحمانی، روہڑی سے اختر درگاہی، خیرپور سے حسن شیخ، پشاور سے صغیر اسلم، عزیز اعجاز، ناصر علی سید، ایبٹ آباد سے احمد حسین مجاہد، اٹک سے مشتاق عاجز، کوئٹہ سے سرور جاوید، محسن شکیل، گلگت بلتستان سے احسان شاہ، مظفرآباد سے احمد عطا اللہ، اعجاز نعمانی، امریکہ سے نورین طلعت عروبہ، مدینہ منورہ سے ڈاکٹر خالد عباس الاسعدی نے کلام پیش کیا۔

Pakistan Academy of Letters

Press Release

Islamabad: The international online Naat Mushaira organized by the Pakistan Academy of Letters (PAL), is a source of love and devotion to Allah and Hazrat Muhammad Peace be upon him these days. May Allah ease our difficulties in the name of His Prophet Peace be upon him and protect our nation and the whole world from the Karuna. These views were expressed on online by Shibli Faraz, Minister for Information & Broadcasting as a Chief Guest in Naaty Mushaira organized by the Pakistan Academy of Letters.

The Mushaira presided over by Dr. Raiz Majeed. The guests of honor were Dr. Khurshid Rizvi, Dr. Tehseen Firaqi, Sabih Rehmani and Prof. Jalil Alli. Dr. Yousuf Khushk, Chairman Pakistan Academy of Letters presented an introductory note. Mehboob Zafar moderated the Mushaira. Through the video link, poets from all over the country and the world will recite their poetry. More than 100 poets and listeners will join the Mushaira through video link.

Shibli Faraz said that the month of Ramadan is favorite to all of us Muslims, It is the month of Allah’s Beloved Hazrat Muhammad Peace be upon him and the month of the revelation of the Qur’an. The hearts of Muslims are especially attracted to worship and remembrance during this month and congregating the blessings of Allah.

He said that Naat is also our religious manifestation and cultural identity. The stress and strain that the epidemic has put on society as a whole, the most effective way to get rid of this is to turn to Allah and to follow the path indicated by the Prophet Peace be upon him and this Naatay Mushira should also be seen as a link in the same chain.

Dr. Raiz Majeed said that The new poets have written Naat in the style and type of ghazal and constantly writing Naat. Like ghazals, Naat in the linguistic capital and vocabulary of Urdu language is also constantly gaining attention in linguistic boundaries. Since Naat has appeared in the prevailing styles of Urdu poetry therefore, the tradition of Urdu Naat is also reflected in the mirror of the tradition of Urdu poetry.

Yousuf Khushk, Chairman PAL said that every language in the world, which is spoken and understood by Muslims, no matter how small their number, Naat is probably the only genre in the world that has been written in most of the world’s languages, the reason for this is that faith is a part of every Muslim.

He said that PAL also has the honor to publish a Naat issue of its quarterly magazine “Adabiyat”. In addition, the academy conducts Naatya Mushaira every year during the holy months of Ramadan and Rabi-ul-Awwal.

Poets from Islamabad and Rawalpindi including Ilyas Babar Awan, Parveen Tahir, Tabassum Akhlaq, Junaid Azar, Hassan Abbas Raza, Aysha Masood Malik, Shazia Akbar, Naseem Sehar, from Lahore Tahir, Asnath Kanwal, Dr. Hamida Shaheen, Dr. Khursheed Rizvi, Amber Salahuddin, Dr. Fakhr-ul-Haq Noori, Yasmeen Hameed, from Dera Ghazi Khan Dr. Najma Shaheen Khosa, from Sargodha Dr. Khalid Nadeem, Dr. Farah Shah, Dr. Haroon Rasheed, from Faisalabad Shehzad Baig, from Sindh Ali Gul Mirani, from Karachi Aftab Muztar, Sabih Rahmani, from Rohri Akhtar Dargahi, from Khairpur Hassan Sheikh, from Peshawar Saghir Aslam, Aziz Ejaz, Nasir Ali Syed, from Abbottabad Ahmad Hussain Mujahid, from Quetta Sarwar Javed, Mohsin Shakeel, Mushtaq Aajez, from Gilgit-Baltistan Ehsan Shah, from Muzaffarabad Ahmad Ataullah, Ejaz Nomani, from USA Noorin Talat Aruba, from Madinah Munawara Dr. Khalid Abbas Al-Asadi recited their poetry through video link.

Comments are closed.