اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن انٹرنیشنل سچل کانفرنس

اسٹیج پرانعام اللہ خان سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت، شفقت محمود وفاقی وزیرتعلیم وقومی ورثہ و ثقافت، وجیہہ اکرم پارلیمانی سیکرٹری تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ببیٹھے ہیں

ڈاکٹر یوسف خشک چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، شفقت محمود وفاقی وزیرتعلیم وقومی ورثہ و ثقافت کو اجرک پہنا رہے ہیں، ساتھ سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت انعام اللہ خان موجود ہیں۔


اسلام آباد (پ۔ر) صوفیاء کے افکار اور پیغام کے ذریعہ پاکستان میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوفیاء کے پیغام کوعام کرکے پاکستان کے سوفٹ امیج کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ہفت زبان صوفی شاعر سچل سرمت کے 199ویں عرس کے موقع پر انٹرنیشنل سچل کانفرنس سے شفقت محمود، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے سچل کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ صدارت مہتاب اکبر راشدی نے کی۔ وجیہہ اکرم پارلیمانی سیکرٹری تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور انعام اللہ خان وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین، اکادمی نے ابتدائیہ پیش کیا۔ کانفرنس کا آغاز سچل سرمست کی درگاہ سے براے راست فقیر ایاز ملاح اور ساتھی کی آواز میں کلام سے ہوا۔ ویڈیو لنک کے ذریعہ پورے ملک اور دنیا بھرسے سچل شناس اسکالرز نے مقالات پیش کیے۔ نظامت ڈاکٹر حاکم علی برڑو اورڈاکٹر سعدیہ طاہرنے کی۔ شفقت محمود نے کہا کہ سچل نے اپنی شاعری کے ذریعے مذہبی رواداری کا پیغام دیا اور وبا کے ان دنوں میں مذہبی روا داری کی جتنی اشد ضرور ت ہے شاید ہی اس سے پہلے کبھی رہی ہو۔ اس وبا کے اثرات اپنی جگہ لیکن اس نے بنی آدم کو ایک لڑی میں پرو دیا ۔ ہمیں اس نوع کی آسمانی آفات کا مقابلہ کرنا ہے تو سچل سرمست اور دیگر صوفیا کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ صوفیاء نے اپنے اپنے دور میں اخوت کا پیغام عام کیا۔ ان کے عقیدت مندوں میں صرف مسلمان کی نہیں دیگر مزاہب کے لوگ بھی متاثر ہوئے۔ سچل سرمست نے بھی اپنی شاعری میں یہی پیغام دیا جس پر آج بھی عمل کرکے ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔ وادی سندھ میں صوفیاء نے اپنی شاعری کے ذریعے روحانی بیداری اور پورے خطے میں شعور و آگہی کو فروغ دیا، سندھ میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد سچل سرمست کا نام نمایاں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی شاعری کو وجدانی اور الہامی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ سچل سرمست کے روحانی اور علمی فیضان سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد لامحدود ہے۔ ہم اگر صوفیاء کے کے پیغام کو عام کریں تو بہت سی مشکلوں نمرد آزما ہوسکتے ہیں اکادمی ادبیات پاکستان کوبامقصد اور کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید ہے کہ ڈاکٹر یوسف خشک کی سربراہی میں اکادمی احسن طریقہ سے آگے بڑھے گی اور ادب کے ذریعہ امن اور محبت کے پیغام کو عام کر سکے گی۔ مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ سچل سرمست کا دور سندھ کے کلہوڑہ اور تالپورحکمرانوں کا دور تھا جہاں انتہا پسندی و مذہبی نفرتیں اپنے عروج پر تھیں۔ ایسے میں سچل سرمست نے اپنی شاعری کے ذریعےسندھ کوامن کا گہوارہ بنایا۔ انہوں نے ارد گرد کے ماحول کو شدت سے محسوس کیا اور اس کا اثر قبول کیا اور ان کی طبیعت میں سوز و گداز پیدا ہوا۔ ان کی شاعری میں انسانیت کی فلاح و بہبود کا رنگ نمایاں ہے۔ کلہوڑوں کے دور میں فقیہی اختلافات عروج پر تھے اور سچل سرمست بخوبی واقف تھے کہ اس منافرت کے پس منظر میں درباری عالموں کا عمل دخل ہے لہٰذا انہوں نے علماء کے خلاف اپنی شاعری کے ذریعے تحریک چلائی۔ یہ موضوع سندھ کی شاعری میں نیا تھا۔ اس لئے بہت جلد مقبولیت حاصل کر گیا۔ اس صورتحال نے ان کے فکر واحساس میں فلسفہ تصوف کو انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ تصوف سچل سرمست کے نزدیک محض ایک نظریہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک تجربہ اور رویہ بن کر سامنے آیا ہے وہ کائنات کو ایک صوفی کے نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ صوفی دہلی کا ہو یا دکن کا یا پھر درازہ سندھ کا محسوسات ایک ہی ہیں۔ سچل سرمست، خواجہ میر درد اور ولی دکنی ہم عصر تھے لیکن ہم زبان نہیں تھے۔ یہ سچل کے علمی عرفان کا کمال ہے کہ جو شخص تمام عمر اپنے علاقے سے باہر نہیں گیا پھر بھی نہایت سادگی، صفائی، لطافت اور شگفتگی کے ساتھ درازہ جیسے دور دراز قصبے میں بیٹھ کر آفاقی پیغام دے رہا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان لاک ڈان میں صوفی شعرا کے دن کی مناسبت سے آن لائن کانفرنسز منعقد کرے گی۔ جبار مرزا نے کہا کہ سچل سائیں کا نام میاں عبد الوہاب فاروقی تھا مگر ہمیشہ سچ بولنے کی وجہ سے سچل، سچو اور سچیو مشہور ہوئے۔ ڈاکٹر مہر خادم نے کہا کہ سچل سرمست کی اردو شاعری کا اپنا لب و لہجہ ہے، اس میں کسی اور کی تقلید شامل نہیں ہے. ان کی شاعری کا اپنا ترنم اور اپنی پہچان ہے. ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے کہا کہ سچل سرمست کی شاعری انسانوں کے درمياں زبان، نسل،علاقه اور مذهبی سرحدوں کی قائل نھیں ہے بلکه وہ آفاقی نظريے کے تحت معاشرے کی تشکيل اور فلاح کے داعی هيں- تاج جویو نے کہا کہ سچل سرمست کو منصور ثانی اورعطار سندھ کہا جاتا ہے لیکن ان کی فکری سرچشمہ کا مطالعہ کیا جائے تو سچل پر حافظ شیرازی کا بھی گہرا ثر ہے۔ ڈنمارک سے نصر ملک نے کہا کہ سچل سرمست کا کلام ڈینش صوفی درویشوں کے حلقے میں 1291 سے متعارف ہے اور وحدت الوجود و روحانیت اور سکون قلب کے متلاشیوں کے لیے مینارہ نور کا کام کر رہا ہے ۔ خضر نوشاہی نے کہا کہ سچل نے فارسی کلام میں عطار نیشاپوری کے فکر فلسفہ کو موضوع تحقیق بنایا ھے بلکہ شاعری میں ان کے اوزان، قافیہ، ردیف، اور بحر تک بھی استعمال کئے ھیں۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ انسانوں سے محبت تمام صوفیہ کرام کا مسلک ہے لیکن سچل کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اپنی مادری زبان سندھی کے علاوہ اس خطے میں بولی جانے والی تمام زبانوں سے واقفیت تھے۔ امر اقبال نے کہا کہ سچل سرمست کی شاعری فکری و فنی حوالے سے جدید سندھی شاعری پر اثرانداز ہوئی ہے اور یے سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ڈاکٹر جاوید چانڈیو نے کہا کہ سندھ یا سرائیکی علاقے کی ادبی سیاسی اور سماجی تاریخ میں سچل نام کا کوئی کردار میری نظر سے نہیں گذرا۔ یہ نام عبد الوہاب نے خود منتخب کیا اور خود کو سچل اور سچو کہا۔ یعنی صرف اور صرف سچ اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ الطاف اثیم نے کہا کہ سچل سرمست نے اپنے پُر آشوب دور، بیرونی حملہ، مقامی قبائل کی کشمکش ، عدم رواداری و مذہبی منافرت کے عوامل کی بیخ کنی کے لیےفارسی، سندھی، سرائیکی اور اُردو میں ذی شعور اور حساس دل اشعار کہے تاکہ عالم انسانیت کے لیے کوئی آمن وسکون کا راستہ نکلے۔ ممتاز بخآری نے کہا کہ سچل سرمست کو بھی سندھ کا وہی سیاسی و سماجی ماحول ملا جو شاہ لطیف کے وقت میں تھا اس لیئے سچل سرمست کے سرمارئی کے متن پہ اثر ہوا۔ ڈاکٹر فاخرہ نورین نے کہا کہ سچل سرمست کی شاعری میں خطے کی تمام رومانی داستانوں کا بیان کسی رسم یا روایت کی پاسداری نہیں بلکہ اپنے افکار و نظریات کے اظہار کے لئے مناسب پیرایہ اظہار کی تلاش کا عمل ہے۔ انٹرنیشنل سچل کانفرنس سچل شناس ادیبوں اور دانشورں میں ڈنمارک سے نصیر ملک “فکر سچل سرمست اور ڈنمارک”، اسلام آباد سے جبار مرز“سچل سرمست ولی اللہ”، ڈاکٹر عبدالعزیزساحر“سچل سرمست کی شاعری میں وحدت الوجودی عناصر کی جلوہ آرائی”، ڈاکٹر فاخرہ نورین“سچل سر مست کی شاعری میں رومانی پروٹو ٹائپس کا ارتقاءایک مطالعہ”، پنجاب سے ڈاکٹر نبیلا رحمان (لاہور) “سچل رنگ پنجاب میں”، ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو (بہاول پور) “سرائیکی وسیب وچ سچل سرمست دی پذیرائی”، سید خضر نوشاہی(منڈی بہاءالدین) “سچل کی شاعری پر عطار نیشاپوری کے فکری اثرات”، سندھ سے ڈاکٹر در محمد پٹھان (لاڑکانہ) “سچل کی شاعری کا مطالعہ ان کے وقت کے تناظر میں”، ڈاکٹر فاطمہ حسن(کراچی) “حلاج کا تصور عشق اور سچل”، ڈاکٹر ادل سومرو(سکھر) “سچل سرمت کی فکر میں عالمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا تصور”، تاج جویو(حیدرآباد) “حافظ شیرازی اور آشکار دار راز”، پروفیسر الطاف اثیم(رانی پور) “سچل کی شاعری اپنے دور کی عکاس”، ممتاز بخاری(سکھر) “سچل سرمت کی شاعری کے جدید سندھی شاعری پر فنی و فکری اثرات”، ڈاکٹرمہرخادم (خیرپور) “سچل سرمست کی اردو شاعری : اہمیت اور انفرادیت”، امر اقبال (خیرپور ) “سچل سرمت کے یہاں ماروی کے بارے میں شاہ لطیف والے اشارے”، خیبر پختونخوا ہ سے ڈاکٹر اباسین یوسفزئی (پشاور ) “سچل سرمست، انسانیت کی روایت کا شاعر” اور بلوچستان سے ڈاکٹر واحد بخش بزدار( کوہ سلیمان) “سچل سرمست وحدت الوجودی شاعر” کے موضوعات پر آن لائن مقالات پیش کیے۔


Pakistan Academy of Letters

Press Release

Islamabad: We can promote peace, love and brotherhood in Pakistan through the thoughts and messages of Sufi poets. There is a need to spread the message of Sufis and bring the soft image of Pakistan before the world.

These views were expressed by Shafqat Mahmood, Minister for Federal Education and Professional Training and National Heritage and Culture in the International Sachal Conference held on the occasion of the 199th Anniversary Sufi Poet Sachal Sarmat organized by the Pakistan Academy of Letters.

International Sachal Conference Presided over by Mehtab Akbar Rashdi. Wajiha Akram Parliamentary Secretary for Ministry of Federal Education and Professional Training and Inamullah Khan, Secretary of National Heritage and Culture also attended the conference. Dr. Yousuf khushk, Chairman PAL presented an introductory note. The conference started with Sachal’s Kalaml by Faqir Ayaz Mallah and his companion from the shrine of Sachal Sarmast. Scholars of Sachal from across the country and around the world presented articles via video link. Dr. Hakim Ali Bardo and Dr. Sadia Tahir Moderated the seminar.

Shafqat Mahmood said that Sachal spread the message of religious tolerance through his poetry and it needs tolerance in these days of the epidemic has hardly ever before. Sufis poets spiritual awakening through their poetry in the Indus Valley and spread awareness throughout the region, Sachal Sarmast’s name is prominent in Sindh after Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai.

He said that the effects of this plague were in place, but it brought Adam’s race together in a series. The effects of the epidemic were in place, but it brought Adam’s race together in a link. If we are to face such heavenly calamities, then the thought of Sachal Sarmast and other Sufis must be spread out. Sufis in their time spread the message of brotherhood. Among his Believers, not only Muslims but also people of other religions were attracted. Sachal Sarmast also has the same message in his poetry on which we can be the process become a great nation by following it today.

Federal Minister said that In the Indus Valley and throughout the region Sufis through and their poetry promoted spiritual awakening and awareness. Sachal Sarmast’s name is prominent in Sindh after Hazrat Shah Abdul Latif Bhatti. It would not be wrong to say that his poetry consciousness and Inspiration is very strong. The number of beneficiaries of the spiritual and intellectual blessings of Sachal Sarmast is unlimited. If we spread the message of Sufism, many problems can be overcome.

He said that the National Heritage and Culture Division Congratulate to PAL on holding a successful and purposeful conference and hope that the PAL will move forward in an efficient manner in the leadership of Dr. Yousuf Khushk and the message of peace and love will spread through literature.

Mehtab Akbar Rashdi said that the era of Sachal Sarmast was the era of Kalhora and Talpur rulers of Sindh where extremism and religious hatred were at their peak. In such a situation, Sachal Sarmast turned the Sindh into a place of peace of the common man through his poetry. He felt the surrounding environment intensely and accepted its impact and there was softness and moderately merged in his temper and the color of the welfare and Wellness of humanity apparent in his poetry.

She said that jurisprudential differences were on the rise during the Kalhora period and Sachal Sarmast was well aware that the courtier scholars were involved in the background of this hatred process accordingly, he started a movement against the scholars through his poetry. This subject was new in Sindhi poetry so this Idea gained popularity. In this situation, In thought and feeling of Sachal very strong foundations Philosophy of Sufism was established

Dr. Yousuf khushk, Chairman PAL said that Sufism is not just a theory for Sachal Sarmast rather, it has emerged as an experience and attitude of life. He sees the universe through the eyes of a Sufi and whether the Sufi is from Delhi or Deccan or Darza Sindh, the feelings are the same. Sachal Sarmast, Khwaja Mir Dard, and Wali Deccani were contemporaries but not relate to one language. It is the perfection of Sachal’s mysticism that a person has not gone out of his area all his life

He said that it is the perfection of Sachal’s scientific mysticism that a person has not gone out of his area all his life and he is giving a universal message with great simplicity, cleanliness, elegance and enthusiasm, sitting in a remote town like Darza. PAL will hold online conferences in lockdown on the occasion of Sufi Poets days.

Jabbar Mirza from Islamabad said that Sachal Sai’s name was Mian Abdul Wahab Farooqi but famous for always telling the truth became Sachal, Sacho and Sachyoo. No one else was born in Sindh like him.

Taj Joyo from Hyderabad said that Sachal Sarmast is called Mansoor Sani and Attar Sindh, but if their intellectual sources are studied, Hafiz Shirazi also has a profound effect on Sachal.

Nasr Malik from Denmark said that the poetry of Sachal Sarmast has been introduced in the circle of Danish Sufi since 1291 and is working as a beacon for the seekers of unity, existence, spirituality and peace of mind.

Dr. Abasin Yousafzai from Peshawar said that Sachal Sarmast’s poetry does not believe in language, race, region and religious boundaries between human beings but advocates the formation and welfare of society according to his universal ideology.

Dr. Fatima Hassan from Karachi said that love for human beings is the Belief of all Sufis but Sachal has the characteristic that he was familiar with all the languages spoken in the region except his mother tongue Sindhi.

Syed Khizer Noshahi from Mandi Bahauddin said that Sachal has made Attar Nishapuri philosophy of thought the subject of research in Persian. In poetry, his weights, rhymes, lines, and even the bhars have been used.

Dr. Mehr Khadim from Khairpur said that Sachal Sarmast Urdu poetry has its own accent, it does not include imitation of anyone else. His poetry has its own melody and its own identity.

Mumtaz Bukhari from Sukkur said that Sachal Sarmast also got the same political and social environment of Sindh as it was in the time of Shah Latif, therefore Sachal Sarmast poetry was affected.

Prof. Altaf Aseeim from Ranipur said that Sachal Sarmast writes conscious and sensitive poems in Persian, Sindhi, Seraiki and Urdu to eradicate the causes of turbulent times, external aggression, conflict of local tribes intolerance and religious hatred so that there is a could get out the way of peace and tranquility for humanity.

Dr. Javed Hassan Chandio from Bahawalpur said that Sachal Name has not listened in the literary, political and social history of the Sindh or Seraiki region. This name was chosen by Abdul Wahab himself and called himself Sachal and Sachu. That is nothing but truth and truth only.

Amar Iqbal from Khairpur said that Sachal Sarmast’s poetry has influenced modern Sindhi poetry intellectually and artistically and this trend is still going on.

Dr. Fakhra Noorin from Islamabad said that the narration of all the romantic stories of the region in the poetry of Sachal Sarmast is not an observance of any ritual or tradition but the process of finding a suitable expression for expressing one’s thoughts and ideas.

Scholars of Sachal from all over the century from Islamabad including Jabbar Mirza “Sachal Sarmast Waliullah”, Dr. Abdul Aziz Sahir “Elements of the unity of existence & manifestations in the poetry of Sachal Sarmast”, Dr. Fakhra Noorin “A Study on the evolution of romantic prototypes in Sachal Sarmast’s Poetry”, from Punjab are Dr. Nabila Rehman (Lahore) “Sachal colors in Punjab”, Dr. Javed Hassan Chandio (Bahawalpur) “Acceptance of Sachal Sarmast in Seraiki Waseeb”, Syed Khizer Noshahi (Mandi Bahauddin) “Attar Neshapuri’s intellectual impact on Sachal’s poetry”, from Sindh are Dr. Dar Mohammad Pathan (Larkana) “Study of the poetry of Sachal Sarmat in the context of his time”, Dr. Fatima Hassan (Karachi)”Halaj’s concept of love and Sachal”, Dr. Adil Soomro (Sukkur) “Concept of Global Harmony and Brotherhood of Sachal Sarmast in his thoughts”, Taj Joyo (Hyderabad) “Hafiz Shirazi and conspicuous Secrets”, Prof. Altaf Aseeim (Ranipur) “Sachal’s poetry is a reflection of his time”, Mumtaz Bukhari (Sukkur) “Shah Latif’s allusions about Marvi close to Sachal Sarmast”, Dr. Mehr Khadim (Khairpur) “Sachal Sarmast’s Urdu Poetry: Significance and Uniqueness”, Amr Iqbal (Khairpur) “Technical and intellectual influences of Sachal Sarmat’s poetry on modern Sindhi poetry”, from Khyber Pakhtunkhwa Dr. Abasin Yousafzai (Peshawar) “Sachal Sarmast, the poet of the tradition of humanity”, from Balochistan Dr. Wahid Bakhsh Bazdar (Khoa Sulaiman) “Sachal Sarmast Wahdat Al-Wujud poet” and Naseer Malik from Denmark “Sachal Sarmast thoughts and Denmark” presented online articles on topics.

Comments are closed.