اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لائن عالمی حمدیہ مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کے آن لائن حمدیہ مشاعرہ میں ڈاکٹر یوسف خشک۔ انعام اللہ خان، ڈاکٹر احسان اکبر


اسلام آباد (پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام آن لان عالمی حمدیہ مشاعرہ ڈاکٹر احسان اکبرکی صدارت میں منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی انعام اللہ خان ،وفاقی سیکرٹری ،قومی تاریخ وثقافت ڈویژن تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک،چیئرمین نے اکادمی ابتدایہ پیش کیا۔ انعام اللہ خان نے کہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا اور اس کے احکامات کی پیروی کے جوش و جذبے کو تازہ کرتا ہے۔ تلاوت و عبادات کے ساتھ ساتھ تخلیق کار خدائے وحدہ لا شریک کی عبدیت کے جذبے سے سر شار ہو کر اپنی قلبی واردات اور روحانی تعلق کا بیان اپنے تخلیقی عمل میں اشعار کی صورت کرتے ہیں۔ حمد گوئی کا یہ عمل ہمارا مذہبی مظہر بھی ہے اور تہذیبی پہچان بھی۔ اکادمی نے رمضان المبارک کے اس پہلے عشرے میں حمدگوئی کے لیے مختص اس مشاعرے کا انعقاد کر کے نہ صرف اہل پاکستان کے مذہبی اور روحانی جذبات کی سیرابی کا سامان کیا ہے بلکہ اطمینان اس امر پر کہ ہمارے ادارے وبا کے ان دنوں کی پیدا کردہ سماجی اور انتظامی ابتری کے اثرات کو ممکن حد تک کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ حمدیہ کلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم نے بھی لکھا ہے۔اکادمی کا اس وبا کی فضا میں یہ مشاعرہ ایک احسن قدم ہے، اکادمی نے لاک ڈان کا بھی لاک ڈان کر دیا ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک،چیئرمین اکادمی نے کہا کہ اکثر شعرا کے مجموعہ کلام کا آغاز عموماً حمد سے ہوتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے شعری سرمائے پر دین اسلام کا کتنا گہرا اثر ہے ام الکتاب قرآن مجید کا آغاز بھی سورہ الفاتحہ کی صورت میں حمد ہی سے ہوتا ہے۔ مناجات بھی حمد ہی کی ایک شکل ہے جس میں اللہ سے مشکل حالات میں مدد اور دکھ و پریشانیوں سے نجات کی دعا مانگی جاتی ہے۔ پاکستانی زبانوں پر عربی اور فارسی زبانوں کا گہرا اثر ہے۔ بیشتر اصناف کی طرح حمد بھی ہمارے ہاں فارسی اور عربی کے توسط سے آئی۔تمام صوفی شعر اکے ہاں حمدیہ اشعار موجود ہیں، اس کے لیے علیحدہ عنوانات قائم نہیں کیے گئے۔ اردو سمیت تمام پاکستانی زبانوں میں حمد کا آغازانھی صوفیانہ اور فلسفیانہ خیالات کے شعری اظہار کی صورت میں ہوا اور وحدت الوجودی خیالات ایک عرصے تک اس پر حاوی رہے۔حمد گوئی کی روایت کو آگے بڑھانے اور اس کی ترویج و ترقی کے لیے اس بات کی اشد ضرور ت ہے کہ مسالموں اور نعتیہ مشاعروں کی طرح حمدیہ مشاعرے بھی تواتر سے کیے جائیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے یہ پہلا حمدیہ مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ویڈیو لنک کے ذریعہ پورے ملک اور دنیا بھرسے شعر ا میںلاہور سے ڈاکٹر خورشید رضوی، سعود عثمانی،عباس تابش، فیصل آباد سے ڈاکٹر طارق ہاشمی، ملتان سے محمد مختار علی، رحیم یارخان سے جبار واصف، کراچی سے ڈاکٹر جاوید، ایبٹ آباد سے احمد حسین مجاہد، کوئٹہ سے محسن شکیل، جہاں آرا تبسم ، اسلام آباد سے علی اکبر عباس،حسن عباس رضا، ضیا الدین نعیم ، ڈاکٹر وحید احمد، منظر نقوی، ڈاکٹر فرحت عباس، ڈاکٹر نجیبہ عارف، شکیل جاذب، اختر عثمان کے علاوہ باسط کاظمی،سجاد حیدر ( برطانیہ ) ،نوشی گیلانی (آسٹریلیا) اورڈاکٹر محمود الاسلام (بنگلہ دیش)سے آن لائن کلام پیش کیا ۔ نظامت پروفیسررباب تبسم نے کی۔ ویڈیو لنک پر سوسے زائد سامعین شامل تھے۔

Pakistan Academy of Letters

Press Releases

Islamabad (P R): International online Hamdia Mushaira organized by Pakistan Academy of Letters (PAL) is admirable and the efforts of PAL to organize online literary pogrammes by observing the principle of social distance are commendable.

These views were expressed by Inamullah Khan, Federal Secretary, National Heritage and Culture Division being the Chief Guest of the first online Hamdia Mushaira, organized by the Pakistan Academy of Letters.

The Mushaira presided over by Dr. Ehsan Akbar. Dr. Yousuf khushk, Chairman Pakistan Academy of Letters presented an introductory note. Prof. Rabb Tabassum moderated the Mushaira.

Poets from all over the country and around the world including Dr. Khursheed Rizvi, Saud Usmani, Abbas Tabish from Lahore, Dr. Tariq Hashmi from Faisalabad, Muhammad Mukhtar Ali from Multan, Jabbar Wasif from Rahim Yar Khan, Dr. Javed Manzar from Karachi, Ahmad Hussain Mujahid from Abbottabad, Mohsin Shakeel, Jahan Ara Tabassum from Quetta, Ali Akbar Abbas, Hassan Abbas Raza, Ziauddin Naeem, Dr. Waheed Ahmed, Manzar Naqvi, Dr. Farhat Abbas, Dr. Najiba Arif, Shakeel Jazeb, Akhtar Usman from Islamabad, Basit Kazmi, Sajjad Haider (UK), Noshi Gilani (Australia) and Dr. Mahmood Al-Islam (Bangladesh) recited their poetry through video link, which was listened by more than 100 listeners.

Inamullah Khan said that the Holy month of Ramadan refreshes the praise be to Allah and refreshes the enthusiasm. Along with the recitation and worship, human beings express their heartfelt feelings and spiritual connection in the form of poems. Federal Secretary said that the Hamdia Poetry is part of our religious manifestation and our cultural identity too. The PAL has infused the religious and spiritual sentiments of the people of Pakistan by conducting Hamdia Mushaira in the first decade of Ramadan. It is a matter of satisfaction that our institutions are working to minimize the effects of the social and administrative turmoil created by the epidemic these days.

Dr. Ehsan Akbar said that Hamdia Kalam was written not only by Muslims but also by non-Muslims. This Mushaira of the PAL is an appreciated step in the atmosphere of this epidemic.

Dr. Yousuf khushk, Chairman PAL said that the majority of poetry books usually begin with Hamdia Kalam, which shows the profound effect of Islam on our poetic literature. He said that Umm Al-Kitab the Qur’an also begins with praise in the form of Surah Al-Fatiha.

He said that Arabic and Persian have a profound effect on Pakistani languages. Like other literature, Hamd came to us through Persian and Arabic. All Sufi poets wrote Hamdia poems, for which no separate titles have been established. Hamdia Kalam in all Pakistani languages, including Urdu, began in the form of poetic expressions of mystical and philosophical ideas, and form that time the ideas of Wahdatul-Wujud dominating.

He said that in order to carry forward and promote the tradition of Hamdia Kalam, it is imperative that Hamdia Mushairas should be organized regularly like Masalma and Naat. This first Hamdia Mushaira, organized by PAL is the first step towards this activity.

Comments are closed.