اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پہلا عالمی آن لائن مشاعرہ

افتخار عارف، وفاقی وزیر،شفقت محمود، ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی

اکادمی کی آن لائن سرگرمیاں ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے انسپیریشن کا باعث بنے گی۔ شفقت محمود

اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پاکستان میں پہلی بار آن لائن مشاعرہ منعقد کیا گیا ہے۔ڈاکٹر یوسف خشک

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام پہلا عالمی آن لائن مشاعرہ

اسلام آباد(پ ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کاعالمی آن لائن مشاعرہ وبا کے دنوں میں ادب سے لگاﺅ رکھنے والوں کے لیے تازہ ہوا کا جھوکا ہے اورگھروں میں محصورا ہل قلم کی صحت مندانہ ادبی سرگرمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام پاکستان میںپہلی بارمنعقدہ آن لائن مشاعرہ میں شفقت محمود،وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے بطور مہمان خصوصی کیا۔مشاعرہ کی صدارت افتخار عارف کی۔ویڈیو لنک کے ذریعہ پورے ملک اور دنیا بھرسے شعرا کلام پیش کیا۔ سو سے زائد سامعین نے آن لائن مشاعرہ سنا۔ شفقت محمود نے کہا کہ حکومتی اداروں ،سماجی تنظیموں اور افراد کے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے بغیر اس وبائی صورت حال اور اس کے منفی اثرات سے نکلنا ممکن نہیں، تمام حکومتی ،سماجی ادارے اور ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت پاکستان زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی حفاظت کی ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھیں تو ہمارا خطہ ایسا ہے جہاں مشکلات زیادہ اور وسائل کم ہیں لیکن حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ غریب عوام مشکلات کا کم سے کم سامنا ہو۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ اہل علم کے رابطہ کے دائرہ کو کئی ملکوں بلکہ براعظموں تک پھیلا دیا ہے۔ وائرس نے باہمی حفاظت کے اقدام کے تحت گھروں تک محدود کردیا ہے جس سے یکسانیت کا ماحول پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ اکادمی کی آن لائن سرگرمیاں ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے انسپیریشن کا باعث بنے گی۔ حالات بہتر ہوں گے اور روزمرہ زندگی کی معمول کی رونقوں کی طرف پلٹیں گے تو یقینا اکادمی ادبیات پاکستان جدید وسائل کا استعمال بہتر طورپر کر کے اہل قلم کے باہمی رابطوں کو مزید فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی نے ”امید زیست ایوارڈ “ اقدام جو کرونا کی وبائی صورت حال کے تناظر میں شعرا کی تخلیقی کاوشوں کی پذیرائی کی ایک صورت ہے اچھی کاوش ہے۔ اکادمی کی ویب سائٹ پر شعری تخلیقات پیش کی جا رہی ہیںجس میں پاکستان کے مختلف زبانوں کے شعرا بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔ خاص طور پر ملک کے دور دراز کے علاقے جہاں کے شاعروں اور ادیبوں کی آوازیں مرکزی دھارے تک کم پہنچتی ہیں انھیں بھی اس صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا ہوا ہے۔ اکادمی وبائی صورت حال کے خاتمے کے بعد بھی دوردراز کے علاقوں کے ادیبوں سے رابطے استوار رکھے تاکہ پورے پاکستان کے اہل قلم کے جذبات و احساسات کی پذیرائی ممکن ہو سکے۔ چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ وفاقی وزیر، شفقت محمود کی سرپرستی میں اکادمی کو جدید خطوط پر آگے بڑھاتے ہوئے ادب کے فروغ اور ادیبوں کی فلاح و بہود کے منصوبوں پر تیزی سے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ادبی سرگرمیوںسے گھروں میں محدود ادب سے لگاﺅ رکھنے والے احباب رابطہ میں رہیں گے اوراہل قلم یک دوسرے سے اس ماحول میں تنہائی اور نفسیاتی کرب سے نکل کر اجتماعی زندگی اورسماجی روابط سے منسلک ہو جائیں گے۔اکادمی اس طرح کی آن لائن تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی۔ اکادمی ادبیات علامہ اقبال کی یوم وفات کے موقع پر آن لائن سیمینار اور ماہ رمضان میں نعتیہ ادب کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال تناظرمیں آن لائن ادبی سرگرمیوں وسعت دیں گے۔ ادبی تاریخ گواہ ہے کہ قلم کاروں نے بہترین اور شاہکار تحریریں مشکل حالات اور مشکل ادوار میں تخلیق کی ہیں۔ تخلیق کا عمل حالات کی سختی کی بھٹی میں پگھل کر ہی کمالات دکھاتا ہے۔ کرونا کی وبا میں تخلیق نگاروں نے قلم کے ذریعے مشکل حالات کی عکاسی کی اور انسانوں میں شعور، جستجو اور جینے کی لگن کو زندہ رکھا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ سارے کام رک بھی جائیں تو تخلیقی کام پھر بھی جاری ریے گا۔ لاک ڈاون کی وجہ سے انسان گھروں میں بند ہیں۔ سماجی اجتماعات نہیں ہو رہے۔ وہ پہلے والی مدارات نہیں پھر بھی اہل قلم اور اہل علم لوگوں نے لکھنا اور سوچنا بند نہیں کیا۔ ہمیں اپنے تخلیق کاروں کی ہمت افزائی کرنی چاہیے اور پاکستان میں علم و ادب و زبان کی ترقی کے لیے عملی کام کرنا چاہیے۔ افتخار عارف نے کہا کہ وبا کے اس موسم میں اکادمی ادبیات کا مشاعرہ بہار کی مانند ہے جس میں دنیا بھر سے شعرا شرکت کر رہے ہیں یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ کروناوائرس نے سماجی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اسے میں شعرا نے پرامید شاعری کے ذریعہ حوصلہ کی ہے۔

مشاعرے میں افتخار عارف، پروفیسر جلیل عالی، سرفرازشاہد، ڈاکٹر عابد سیال،اختر رضا سلیمی، رباب تبسم، ڈاکٹر شائستہ نزہت، ڈاکٹر سعدیہ طاہر، محمد سلمان، پروفیسر رباب تبسم، ڈاکٹر صوفیہ یوسف، مرید راحمون، راشدہ ماہین ملک، (اسلام آباد)، ذیشان مہدی(اسکردو)، ڈاکڑ نذیر تبسم، بشریٰ فرخ (پشاور)،غلام قاسم مجاہد بلوچ (ڈیرہ غازی خان)، میر حاجن میر(سیہون شریف)، ابراہیم کھو کھر(خیرپور)، ڈاکٹر اشرف کمال(بھکر)، بیرم غوری( کوئٹہ)، ایاز گل، نصراللہ خان ناصر(سکھر)، امجد اسلام امجد، ناز بٹ، ڈاکٹر اختر شمار، خالد مسعود( لاہور)، شبنم گل(حیدر آباد)، ڈاکٹر قاضی عابد، ڈاکٹرسید فرتاش، صائمہ نورین بخاری(ملتان)، محمود شام، سیما غزل، ڈاکٹر فاطمہ حسن( کراچی) اوربیرون ملک سے شمس جعفری(ایران)، ڈاکٹر محمود الاسلام (بنگلہ دیش)، ارشد فاروق(فن لینڈ)، ڈاکٹر تقی عابدی(کینیڈا)، یشب تمنا،عروج، شبانہ یوسف(برطانیہ)، ڈاکٹر آرزو سورن(ترکی)، عشرت معین سیما (جرمنی)، خانم والہ جمال (قاہرہ، مصر)، مہ جبیں غزل انصاری( برطانیہ)، شائستہ حسن(ناروے)، ناہید ورک،سید نواب حیدر نقوی( امریکہ)اورڈاکٹر خلیل طوقار( ترکی)نے آن لائن شرکت کی۔

 

Pakistan Academy of Letters

Press Release

Islamabad (P R): International online Mushaira organized by Pakistan Academy of Letters (PAL) is a breath of fresh air for those who have confining themselves at homes in these days of epidemic and is a healthy literary activity for lovers of literature as well.

These views were expressed by Shafqat Mahmood, Minister for Federal Education and Professional Training and National Heritage and Culture for the first time online Mushaira in Pakistan organized by the Pakistan Academy of Letters.

The Mushaira presided over by Iftikhar Arif. Poets from all over the country and around the world participated in Mushaira. Over 100 listeners listened the poets in this online Mushaira.

Shafqat Mahmood said that without the co-operation and joint efforts of government agencies, social organizations and individuals, it is not possible to overcome this pandemic situation and its adverse effects. It is the responsibility of individually and collectively of all governments, social institutions and individuals to play their role in this difficult time. The Government of Pakistan is aware of its responsibility to protect our people. In a global perspective, our region is facing problems on higher side while resources are scarce, but the government is working hard to ensure that the poor people may face the least of the problems.

He said that Pakistan Academy of Letters has expanded the reach of scholars through advanced technology to many countries and continents. The Corona virus has restricted us to our homes under mutual protection measures that create an atmosphere of homogeneity. The Academy’s online activities will be an inspiration to those who love literature. Things will improve and switch back to the routine and normal days of life. So, of course, the Pakistan Academy of Letters will play its role in furthering the mutual relations of the writers and people by utilizing modern resources better.

He said that launching of the online “Umeed – e – Zeest Award” by PAL is also a creative effort for poetry in the context of the Corona epidemic situation is well-appreciated.

On the website of the PAL, poets of all Pakistani languages are taking a keen interest, especially for the remote areas of the country a platform has also been provided where the voices of poets and writers reach the mainstream. The PAL kept in touch with writers from remote areas even after the outbreak of this situation, so that the feelings of the writers of all over Pakistan can be promoted as possible.

Chairman, Pakistan Academy of Letters, Dr. Yousuf khushk said that the under the patronage and guidance of Federal Minister, Shafqat Mahmood, PAL will work on modern lines for the promotion of literature and welfare of the writers.

He said that the writers’ community who limited to houses will stay in touch with each other through this activity to minimize the prevailing environment of isolation and psychological stress online literary activities of PAL. This Mushaira will be broadcast on the Pakistan Academy of Letters Face book page, which will be viewed by millions of people.

He said that the Pakistan Academy of Letters will continue to host such online events and will organize an online seminar on the death anniversary of Allama Iqbal, a Naatya programme in the Month of Ramadan. In the current context, other online literary activities will expand by PAL.

He said that the history of literature is a witness to the fact that writers have written excellent and masterpiece writings in difficult situations. Creative writers have highlighted difficult situations of Corona Virus through their writings and have kept the consciousness, the quest and the dedication to live in human beings.

Iftikhar Arif said that in this epidemic, the PAL’s Mushaira is like spring, in which Poets from Pakistan and around the world are participating, this is a good move by Academy. Corona virus has paralyzed the social life, poetry is inspired by poets, I hope.

In this online literary activity, Iftikhar Arif, Prof. Jalil Aali, Sarfraz Shahid, Dr. Abid Sial, Akhtar Raza Saleemi, Rabab Tabasam, Dr. Shaista Nazhat, Dr. Saadiya Tahir, Mohammad Salman, Prof. Rabab Tabassam, Dr. Sofia Yousuf, Murid Rahmon, Rashid Abad Mahin Malik (Islamabad) Zeeshan Mehdi (Skardu), Dr. Nazir Tabassam, Bashariya Farrukh (Peshawar), Ghulam Qasim Mujahid Baloch (Dera Ghazi Khan), Mir Hajan Mir (Sehwan Sharif), Ibrahim Khokhar (Khairpur), Dr. Ashraf Kamal (Bhakkar), Byram Ghauri (Quetta), Ayaz Gul, Nasrallah Khan Nasir (Sukkur), Amjad Islam Amjad, Naz Butt, Dr. Akhtar Sham, Khalid Masood (Lahore), Shabnam Gul (Hyderabad), Dr. Qazi Abid, Dr. Syed Fartash, Saima Nurin Bukhari (Multan), Mahmood Sham, Sima Ghazal, Dr. Fatima Hassan (Karachi) and from abroad Shams Jafri (Iran), Dr. Mahmood-ul-Islam (Bangladesh), Arshad Farooq (Finland), Dr. Taqi Abidi (Canada), Yashub Tamana, Uroj, Shabana Yusuf, Mah Jaben Ghazal Ansari (UK), Ishrat Mina Sima (Germany), Khanam Walla Jamal (Cairo), Shaista Hasan (Norway), Nahid Work, Syed Nawab Haider Naqvi (USA) and Dr. Khalil Tukhtar Dr. Arzo Soren (Turkey) participated

Comments are closed.