سکالر، مصنف، مترجم اورسفارت کارکرنل (ر) مسعود اختر شیخ کے انتقال پراکادمی ادبیات پاکستان کی تعزیت

اسلام آباد (پ ۔ ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے سکالر، مصنف، مترجم اورسفارت کارکرنل (ر) مسعود اختر شیخ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہ اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مسعود اختر شیخ نے بڑی تعداد میں ترکی کی مختصر کہانیاں، نظمیں اور ڈراموں کا اردو، پنجابی اور انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ان کی 26 کتابیں ادب کا گراں قدر سرمایا ہیں، ان آخری کتاب ان کی اپنی سوانح عمری پاکستان کے حوالے سے تاریخ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت پاکستان نے 2006 میں ادب کے میدان میں ان کی خدمات پر تمغہ امتیاز دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسعود اختر شیخ کے انتقال سے پاکستانی ادب ایک ادیب، اہم مترجم اور تہذیبی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک نے مسعود اختر شیخ کی وفات پر بھی کہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

Pakistan Academy of Letters

Press Release

Chairman of Pakistan Academy of Letters Dr Yusuf Khushk expressed condolences on the sad demises of scholar, author, translator and Diplomat General (R) Masood Akhtar Sheikh.

In his condolence message, Dr Yousuf Khushak said that Massoud Akhtar Sheikh translated a large number of Turkish short stories, poems and plays into Urdu, Punjabi and English. His 26 books are a rich source of literature while his last book of his biography is a history of Pakistan. The Government of Pakistan recognized his services in the field of literature by awarding him Tamgha-e-Imtiaz in 2006.

He said that the death of Masood Akhtar Sheikh is a great loss to Pakistani literature. Chairman of the Academy Dr. Yousuf Khushak prayed for forgiveness of the departed soul and for the bereaved family to bear this loss.

Comments are closed.