اکادمی ادبیات پاکستان میں”عصری ادبی منظر نامہ اور مادری زبانیں“ پر مذاکرہ


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے علمی دن کی تقریب میں ڈاکٹر حنیف خلیل،محمد حسن حسرت،ڈاکٹر سعادت سعید،ظفر حسین ظفر، طارق شاہد


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے علمی دن کی تقریب میں ڈاکٹر حنیف خلیل،محمد حسن حسرت،ڈاکٹر سعادت سعید،ظفر حسین ظفر، طارق شاہد،ڈاکٹر عبداللہ جان عابد

ٓاسلام آباد(پ۔ر) پاکستان کے استحکام اور قومی یکجہتی کی فضاءکو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں پاکستانی زبانوں کو ساتھ لیکر چلناچاہیے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سعادت سعید نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مادری کےزبانوں کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ مذاکرہ ”عصری ادبی منظر نامہ اور مادری زبانیں“میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ مذاکرہ میں پاکستانی زبانوں کے نمائندوں اور اہل قلم وفا چشتی، یاور عظیم، حاکم علی برڑو، ڈاکٹرصدیق ملک، اختر رضا سلیمی، ڈاکٹر منظور ویسریو،ڈاکٹر سعدیہ کمال، نورالعین سعدیہ، رازق فہیم، ظفر حسین ظفر،ڈاکٹر عبداللہ جان عابد، ڈاکٹر حنیف خلیل اور محمد حسن حسرت نے گفتگوکی، نظامت طارق شاہد نے کی۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ مادری زبانیں سرکاری سرپرستی کے بغیر بھی پنپ سکتی ہیں۔ زبانیں زبان بولنے والوں اور لکھنے والوں کے طفیل زندہ رہتی ہیں،تمام زبانیں پاکستان کی تہذیب اور وحدت کو مستحکم کرتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کو ادبی اور تخلیقی حوالے سے ثروت مند بنانے کی ضرورت ہے اگر زبان کو سیاسی حوالے سے لیا جائے تو اس سے فائدہ نہیں ہوگا۔محمد حسن حسرت نے کہا کہ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کا گلشن ہے جس کے تمام رنگ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ ظفر حسین ظفر نے کہا کہ کشمیر کثیر السانی خطہ ہے، کم و بیش ہر شخص کشمیر میں بولی جانے والی زبانوں کو جانتا ہے کشمیری زبانوں کو مغربی تہذیبی یلغار سے خدشہ ہے۔ ڈاکٹر حنیف خلیل نے کہا کہ مادری زبانوں کو عوامی اُمنگوں اور مثبت سچ کے ذریعے مظبوط بنایا جاسکتا ہے، ہمیں مادری زبانوں کے حوالے سے کسی احساسی کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹرعبداللہ جان عابد نے کہا کہ مادری زبانوں کی بقاءکے لیے حکومتی سرپرستی اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حاکم علی برڑو نے کہا کہ ہماری قومی زبانیں صدیوں سے ہماری شناخت کا ذریعہ ہیں۔ڈاکٹرمنظور ویسریو نے کہا کہ زبانیں محبت رواداری اور رابطہ کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ حکومتی سرپرستی کے ساتھ ساتھ ہمیں ذاتی طور پر زبانوں کے فروغ کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔ازق فہیم نے کہا کہ ہمیں زبانوں کے رشتوں کو ایک خاص زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے دراصل زبانیں خود بھی رشتہ جوڑتی ہیں ہمیں زبانوں کے ذریعے کلچر اور ادب کو آپس میں جوڑنے کی ضرورت ہے۔ وفا چشتی نے کہا ہماری مادری زبانیں قومی ادبی ورثہ میں اضافے اور توقیر کا باعث بنتی ہیں۔ڈاکٹرصدیق ملک نے کہا کہ مادری زبانیں اظہار رائے کا ذریعہ ہیں سب زبانوں کو انکا جائز حق دینا چاہیے۔ اختر رضا سلیمی نے کہا کہ زبانوں کو زندہ رکھنے اور متحرک کرنے کے لیے حکومت کو پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹرسعدیہ کمال نے کہا کہ ہمیں اپنی زبانوں کے لیے خود کام کرنا چاہیے اور اسی حوالے سے کسی کم مائیگی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔نورالعین سعدیہ نے کہا کہ ہمیں تمام پاکستانی زبانوں کو تراجم کے ذریعے ملانے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.