فیض احمد فیض کی 109ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریب

اکادمی ادبیات پاکستان میں فیض احمد فیض کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر شفقت محمود،افتخار عارف، سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی فیض کی سالگرہ کا کیک کا ٹ رہے ہیں۔

اکادمی ادبیات پاکستان میں فیض احمد فیض کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر منیزہ ہاشمی ، سلیمہ ہاشمی،وفاقی سیکرٹری انعام اللہ خان اور وفاقی وزیر شفقت محمود


اکادمی ادبیات پاکستان میں فیض احمد فیض کی سالگرہ کی تقریب وفاقی وزیر شفقت محمودخطاب کر رہے ہیں۔

اسلام آباد(پ۔ر) ادیب اور شاعر کسی بھی معاشرے کے ذہین اور حساس ترین افراد ہوتے ہیں۔ حکومت علمی، ادبی، ثقافتی اور فلاحی اداروں پر بطورِ خاص توجہ دے رہی ہے۔ادبی اور ثقافتی اداروں کے قیام اور ترقی میں فیض صاحب کا اہم کرداراہے۔فیض احمد فیض آڈیٹوریم اپنی نوعیت کا پہلا آڈیٹوریم ہے جو ادبی تقاریب کے لیے اپنی مثال آپ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے بطور مہمان خصوصی فیض احمد فیض کے یوم پیدائش کے موقع پر فیض کے نام سے منسوب اکادمی ادبیات پاکستان کے ”فیض احمد فیض آڈیٹوریم “ کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ افتخار عارف نے کلید ی خطاب کیا۔ فیض احمد فیض کی صاحبزادیاں منیزہ ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی ، مہمانان اعزازتھیں۔ ڈاکٹر فوزیہ سعید، ڈائریکٹر جنرل، پی این سی اے،نے خطبہ استقبالیہ اور محمد سلمان، چےئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان ،نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔فیض کے نواسے عدیل ہاشمی اور علی ہاشمی نے خطاب کیا۔ تاجدار مصطفی زیدی نے تحت اللفظ کے ساتھ اور بانو رحمت اور فرخ مہدی نے ساز و آواز کے ساتھ فیض احمد فیض کا کلام پیش کیا۔اس مو قع پر غزالہ سیفی،پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، انعام اللہ خان، وفاقی سیکرٹری، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن بھی موجود تھے۔ تقریب اکادمی ادبیات پاکستان اور نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ شفقت محمودنے کہا کہ فیض صاحب اردو شاعری اور ترقی پسند ی کے ایک ستون ہیں۔ علامہ اقبال کے بعد اردو دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو جسے بے پناہ عزت، شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہو۔ فیض کی شاعری کے تراجم اور فیض فہمی کے حوالے سے دنیا بھر میںان کے مداح موجود ہےں۔ انہوں نے کہا کہ اہل قلم کے مسائل کے حل اور ادب کے فروغ کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات کے مطابق تیزی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ ہم اپنے مشاہیر اور اہل قلم کے افکار کی روشنی میں متحد ہو کر مکالمے کی روایت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ امن، استحکام، آزادی اور خطے کی بقائے باہمی کے لیے ماحول کو سازگار بنانے میں اہلِ قلم کا کردار انتہائی مثبت اور قابلِ تقلید ہوتا ہے۔ہماری حکومت نے اہلِ قلم کی خدمات کو ہمیشہ خراجِ پیش کیا ہے اور عظیم تہذیبی روایات کی بقا اور احیا کے لےے ان کی تگ و دو اور جدوجہد کی قدر کی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ایک قومی ادارہ ہے جو ادب اور ادیب کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مثبت فکر کے فروغ سے اتحاد و اتفاق، امن و محبت، تحمل اوربرداشت کے لےے مسلسل کوشاں رہا ہے۔افتخا رعارف نے کہا کہ فیض احمد فیض ہماری زندگی میں ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔استاد، شاعر، نقاد، مدیر ، یونین لیڈر یہ سب ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں ہیں اور یہ ساری جہتیں ہماری تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں ایک مثالی شناخت رکھتی ہیں۔ فیض مجبوروں، مظلوموں کی حمایت کرنے والے اور امن و آزادی کے ترجمان کی حیثیت سے ساری دنیا میں محبت ، پیار اور انسان دوستی کی علامت بن گئے ہیں۔ فیض ساری دنیا میں پاکستانی ادب وثقافت کے سب سے مستند اور معتبر حوالے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سلیمہ ہاشمی نے کہا کہ 70کی دہائی تک پاکستان میں کوئی تحریری ثقافتی پالیسی نہیں تھی۔ فیض صاحب نے پہلی مرتبہ پاکستان کی ثقافتی پالیسی تحریرکی جس کے نتیجے میں ادبی وثقافتی ادارے قائم ہوئے ۔ ان کا ذاتی شوق مختلف تھا کہ حکومت جمالیات کی سرپرستی کرے۔ وہ ایسے ادارے چاہتے تھے جو فنون کو آگے بڑھائیں، اسلوب کو مواقع فراہم کریں اور ان کا لہجہ ترقی پسندانہ بھی ہو اور ان میںروایتی جہتوں کی نئی چمک ہو۔سلیمہ ہاشمی نے کہا کہ فیض صاحب ہم سے بہت محبت کرتے تھے اور اپنی باتوں میں خاندان کو بھی شریک رکھتے تھے۔


Pakistan Academy of Letters Islamabad

Writers and poets are the most sensitive and insightful people of any society. The government is paying special attention to the academic, literary and cultural institutions.“Faiz Ahmed Faiz Auditorium” is the first auditorium of its kind to be meritorious for literary events. These views were expressed by Shafqat Mahmood, Federal Minister for Federal Education, Professional Training and National History &Literary Heritage Division during the occasion of the 109th birthday anniversary of legend poet Faiz Ahmed Faiz and inaugural ceremony of “Faiz Ahmed Faiz Auditorium” of Pakistan Academy of Letters (PAL), named after Faiz Ahmed Faiz.Keynote address was delivered by Iftikhar Arif and the daughters of Faiz Ahmed Faiz, Muneeza Hashmi and Saleema Hashmi were the guests of honor of the ceremony. Welcoming address was presented by Fauzia Saeed, Director General, PNCA while the Words of thanks were from Muhammad Salman, Chairman, PAL.

Faiz grandsons Adeel Hashmi and Ali Hashmi also expressed their views on this occasion. At the ceremony, Tajdar Mustafa Zaidi, Bano Rehmat and Farrukh Zaidi paid poetic tribute with focal and instrumental to Faiz Ahmed Faiz.

Ghazala Saifi, Parliamentary Secretary, National History& Literary Heritage Division, Inaamullah Khan, Federal Secretary, National History & Literary Heritage Division also graced the occasion with their presence.

The ceremony was being organized in collaboration with the Pakistan Academy of Letters and the Pakistan National Council of the Arts.

Shafqat Mahmood, Federal Minister said that “Faiz Sahib is considered one of the pillars of Urdu poetry”. Today’s ceremony is special because it is being held on the occasion of anniversary of Faiz Sahib.

He said that Faiz Ahmad Faiz is a world-renowned, multi-faceted and committed personality. He played a vital role in several literary and cultural institutions, including PAL.

He said that Faiz has been translated in many of world languages. It is a fact that we can advance the tradition of dialogue in the light of the ideas of our advertisers and people. The role of the writers in making the environment conducive and pleasant for peace, stability, freedom and coexistence of the region is extremely positive and commendable.

Our government has always paid tribute to the services of the writers and appreciates their efforts and struggles for the survival and revival of great literary and cultural traditions. Along with literature, there has been a continuous effort to promote unity, peace, love, patience and endurance in the promotion of positive thinking in Pakistan. PAL is playing effective role in this current Government.

Iftikhar Arif said that “Faiz was a legend poet. He is multi angled literary personality which marked a great name in the history. He is a symbol of peace and love amongst this world and known as the most remarkable personality.

Saleema Hashmi expressed her views while saying that till 70s there was no cultural policy in writing, it was Faiz sahib who for the very first time scripted and consequently cultural and literary organizations were established.

She said he was a man of insight whose observation was perfect. He personally wanted that Government pay special attention towards such cultural literary institutions, working for the promotion and development of literature and literary people.

Muniza Hashmi said that Faiz loved us very much and involved the family in his talk.

Comments are closed.