اکادمی ادبیات کے زیر اہتمام قائداعظم اور دوقومی نظریہ

مذاکرہ اور دو قومی نظریہ میں عثمان عالم، ڈاکٹر راشد حمید، جبار مرزا، ڈاکٹر،صلاح الدین بابر

 

اسلام آباد(پ ر)ہندوستان میں ہندو اورمسلمان عقیدے کے اعتبار سے دو الگ قومیں تھیں لہٰذا یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں کا اتحاد ہوجاتا۔ان خیالات کااظہاردانشور جبار مرزا نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ہفت روزہ تقریبات یومِ قائد کے سلسلے میں منعقدہ مذاکرے ”قائداعظم اور دوقومی نظریہ“ میں صدارتی خطاب میں کیا۔انھوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ نے قائداعظم سے کہا کہ آپ صرف مسلمانوں کی آزادی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ہندوستان کے مظلوموں کی بات کیوں نہیں کرتے تو قائداعظم نے کہا کہ ہندوؤں پر یقین نہیں کرنا چاہیے یہ ہمہ وقت دھوکہ دے سکتے ہیں۔جبار مرزا نے کہا کہ ہمیں قائداعظم کے حوالے سے بچوں کو ان کی سطح پر جاکر سمجھانا چاہیے کہ ہمارے قائدسچ بولتے تھے۔ وہ انتہائی ذہین ، تعلیم یافتہ اور صاحبِ بصیرت، ایمان دار اور اصول پسند تھے۔ جبار مرزا نے کہا کہ 26اپریل1925کو آرایس ایس کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے۔مہمان خصوصی ڈاکٹرصلاح الدین بابر نے کہا کہ مسلمانوں کی تہذیب، کلچر، زبان ، طرزِ معاشرت ہندوؤں سے الگ ہے۔جب تک ہم ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کے کام نہیں کریں گے دو قومی نظریے پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے تعلیم و تربیت اور انسان کی بنیادی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ تھیوری کے ساتھ ساتھ عملی طور پر ملک و قوم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں نئی نسل کی بھرپور رہنمائی کرنی چاہیے۔دیگر مقررین میں نعیم فاطمہ علوی، خلیق الرحمن، حسنین نازش، ماجدہ شاہ، صباکاظمی، فرحین خالد ، زاہد ایوبی شامل تھے نظامت عثمان عالم نے کی۔

 

Comments are closed.