انگلستان میں اقبال پر صحیح معنوں میں کام ہوا ہے، پروفیسر فتح محمد ملک

اسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یومِ اقبال میں مذاکرہ”فروغ فکر اقبال اوربیرون ملک پاکستانی“ کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اقبال کا مجموعہ کلام اسرارِ خودی کی اشاعت کے بعد انگلستان میں بھی یہ مجموعہ انگریزی میں چھپ گیا تھا جس پر مشہور شاعر فاسٹر نے اپنی قوم کو اقبال کا نام لے کر جگایا اور احساس دلایا تھا ۔ اکادمی کے چیئرمین ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے بیرونِ ملک سے آئے ہوئے معزز مہمانوں اور دیگر شرکا کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں یہ پہلا پروگرام اقبال کی تقریبات کے حوالے سے ہوا ہے آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے میں فیض آڈیٹوریم کا باقاعدہ افتتاح ہونے جارہا ہے۔کینیڈا سے آئے ہوئے شاعر اشفاق حسین نے 1980ءکے بعد کینیڈا میں اقبال فہمی کی سرگرمیوں اور ڈاکٹراین میری شمل کے اقبال پر ہونے والے خصوصی پروگرام کا ذکر کیا ۔برطانیہ میں مقیم ناصر کاظمی نے بتایا کہ وہ ہر برس اپریل اور نومبر سمیت اہم دنوں میں اقبال کی تفہیم پر تسلسل سے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کلامِ اقبال کے انگریزی تراجم کے بارے میں آگاہ کیا۔ سلطان احمد علی نے ترقی یافتہ ممالک کے دیگر خطوں میں کلامِ اقبال اور پیغامِ اقبال کا ذکر کیا اور کہا کہ ریاستِ پاکستان کو ان لوگوں کی سرپرستی کرنے چاہےے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدام اٹھائیں گے۔ فیصل ترمذی نے بتایا کہ امریکہ میں تیس برسوں میں ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ ذکرِ اقبال کی محافل ہورہی ہیں اور فہمِ اقبال پر بھرپور کام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر صغیر اسلم نے کہا کہ کینیڈا میں اقبال کے حوالے سے ان کے اردو اور فارسی کلام کے تراجم کےے جارہے ہیں ۔ عارف کسانہ نے کہا کہ سویڈن میں یومِ اقبال کے حوالے سے تقریبات شایانِ شان طریقے سے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔

Comments are closed.