پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال میں مذاکرہ بعنوان کلام اقبال کے پاکستانی زبانوں میں تراجم

اسلام آباد(پ۔ر)علامہ اقبال کی فکر اور اس کے کلام نے تمام پاکستانی زبانوں کو متاثر کیا ہے اور تمام اصناف میں ان کی فکر نمایاں نظر آتی ہے ۔ان خیالات کااظہارڈاکٹر ندیم شفیق ملک، وفاقی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن ، نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام فکر اقبال کے فروغ کے حوالے سے ”پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال “کے تیسرے دن کانفرنس روم (آڈیٹوریم ) میں منعقدہ مذاکرہ بعنوان ”کلام اقبال کے پاکستانی زبانوں میں تراجم“ میں کیا۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ مذاکرہ میں ڈاکٹرانعام الحق جاوید، چیئرمین اکادمی ادبیات، اختر عثمان(اردو،پنجابی، سرائیکی، پوٹھوہاری )،ڈاکٹر منظور ویسریو(سندھی)، ڈاکٹرعبداللہ جان عابد(پشتو)، واحد بخش بزدار(بلوچی)،ڈاکٹر عبدالواجد تبسم(ہندکو)، اوردیگرزبانوں کے اسکالرزنے شرکت کی ۔ نظامت منظر نقوی اور ڈاکٹر ضیاءالرحمن بلوچ نے کی۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے کہا کہ پاکستانی زبانیں ایک خوبصورت گلدستہ کی مانند ہیں۔ پاکستانی زبانیں نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ساری زبانیں باہم جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی زبانوں کے یکجا ہونے سے محبت، یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ ملا ہے، تعصبات نے دم توڑا ہے اور اگر پاکستانی زبانوں کے حوالے سے تعصبات نے جنم بھی لیا تو ان عناصر کو قدرت نے خود انجام تک پہنچایا۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی پاکستانی زبانوں کے حوالے سے شاندار خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ و فاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ، شفقت محمود بھی ادبی اداروں کے انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے آرزو مند ہیں اوروہ ان کو خودمختار ادارے بنانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم سب اہل قلم اقبال کے مصور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری، قومی تاریخ و ادبی ورثہ، چاہتے ہیں کہ علمی ادبی ادارے فروغ پائیں۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے گلگت بلتستان میں بولی جانے والی وخی زبان پر ایم فل کا مقالہ تحریر کیا ہے۔وہ علمی ادبی حوالوں سے ایک معبتر نام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک کی قائداعظم اور علامہ اقبال کی تفہیم کے حوالے سے بہت سی کتابیں ہیں اوروہ ایک علمی و ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر عبد الواجد تبسم نے علامہ اقبال کی فارسی نظم ”نغمہ ملائک “ کا ہزاروی ہندکو میں ترجمہ پیش کیااور ہندکو میں اقبال پر کےے گئے تراجم پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر منظور ویسریو نے سندھی زبا ن میں ترجمہ پیش کیااور کہا کہ سندھی میں اقبال پر ان کی زندگی میں کام ہوا تھا۔ ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ کا سندھی ترجمہ آج تک پڑھایا جاتا ہے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی اور اقبال میں قدر مشترک مولانا رومی کی فکر ہے۔ اقبال پر سندھی میں بہت زیاد ہ کام ہوا ہے۔ نہ صرف اُن کی شاعری بلکہ ان کی فکر ،ان کی حیات اور ان کے پیغام کے حوالے سے بھی وقیع کام ہوا ہے۔ واحد بخش بزدار نے بلوچی زبان میں اقبال کے کلام کے تراجم پر گفتگو کی اور کہا کہ ڈاکٹر فضل نے بہت کام کیا۔ علامہ اقبال کی شاعری کو کلیات میں دیکھنا چاہیئے۔ ڈاکٹرعبد اللہ جان عابد نے پشتو میں ترجمہ ہائے اقبال پر بات کی اور پشتو کے نمونے پیش کےے اور کہا کہ علامہ کی فارسی ، اردو، انگریزی ،کلام کے تراجم پشتو میں موجود ہیں اور یہ کام ان کی زندگی میں بھی بہت ہوا۔ شکو ہ اور جوا ب ِ شکوہ جیسی عظیم نظموں کی تخلیق کے ساتھ ہی ان کے تراجم ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پشتو مترجمین میں حمزہ شنواری ، سمندر خان سمندر، عبدالحلیم ، تقویم الحق کا کا خیل شامل ہیں۔ اختر عثمان نے کہا کہ اقبال کا کمال یہ ہے کہ اس نے اردو شاعری کوسوچنا سکھایا۔ قبل ازیں میرو غالب تھے ۔ اقبال اپنے لہجے کے موجود بھی ہیں خاتم بھی۔ اقبال کے سرائیکی ادب پر ناول ، نظم، جدید غزل پر بے پناہ اثرات ہیں۔اردو شاعری کو علامہ اقبال نے سوچنا سکھایا۔ اقبال سے پہلے میر و غالب کا شہرہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کو کلیت میں دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی یہ پانچ روزہ تقریبات اقبال کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے سرائیکی ادب میں اور پنجابی ادب میں اقبال پر کیے جانے والے کام پر بھی روشنی ڈالی۔

Comments are closed.