پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال “میں سیمینار بعنوان عصر حاضر میں فکر ِاقبال کی تفہیم

اسلام آباد(پ۔ر)علامہ اقبال ایک عظیم فکر تھے ہمیں نوجوانوں میں ان فکرکو عام کرنا چاہیے۔ ان خیالات کااظہارغزالہ سیفی،پارلیمانی سیکرٹری،قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن نے اکادمی ادبےات پاکستان کے زیر اہتمام فکر علامہ اقبال کے فروغ کے حوالے سے ”پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال “کے دوسرے دن اکادمی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ سیمینار بعنوان ”عصر حاضر میں فکرِ اقبال کی تفہیم“ میں کیا۔ وہ اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ سیمینار کی مجلس صدارت میں افتخار عارف اورپروفیسر فتح محمدملک شامل تھے۔ اسلم کمال(پنجاب)،یوسف شاہین(سندھ)، یوسف گچکی(بلوچستان)اورپروفیسرگوہر نوید(خیبر پختون خوا)نے موضوع کی مناسبت سے مقالات پیش کےے۔ نظامت ڈاکٹر راشد حمید نے کی۔ غزالہ سیفی ،پارلیمانی سیکرٹری،قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن نے کہا کہ عام انسان اصلی سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں۔پسے ہوئے طبقے کے لوگوں میں سے عظیم فکر کے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔فیڈرلزم ختم کرنا چاہےے تاکہ عام لوگوں کی علم تک رسائی ہو سکے۔ا نہوں نے کہا کہ وزیراعظم یکساں نصاب ِ تعلیم کی بات کرتے ہیں تاکہ تمام لوگوں میں پاکستان اور علم کے حوالے سے ایک سو چ ہو سکے اور بچے مشرقی اور مغربی دونوں طرح کی تعلیم سے بہر ہ ور ہو سکیں ۔ آج دانش وری کا وہ معیار نہیں ،مغربی سوچ نے ہمیںاس سے دور کردیا۔ پہاڑوں، میدانوں ،ریگستانوں میں رہنے والے پاکستان میں سب کی تعلیم ایک زبان میں اور ایک جیسے نظام و نصاب سے چلنی چاہےے۔ بہترین تعلیم ، بہترین سوچ دیتی ہے اورہمیں اس آواز کو پھیلانا ہے۔ افتخار عارف نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کو’ ’پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال “ پر مبارکباد دینی چاہےے ۔ علوم و فنون کی مختلف جہتوں پر گفتگو ہور ہی ہے۔ اقبال کے بعض اردو اور فارسی کے اشعار اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لےے کا مصرع بہت پڑھایا جاتا ہے۔ اب 57مسلم ممالک آزاد ہیں مگر یہ سب گرفتار ِ بے سکونی ہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر دور میں اپنے زمانے کے اٹھنے والے سوالوں کے جواب دےتے۔ 20ویں صدی میں مغرب کی یلغار کا اقبال نے جم کرمقابلہ کیا۔ اقبال نے تشکیل قوم کے لےے ری کنسٹرکشن کا کام کیا۔ 20ویں صدی کی کسی مسلم ملکیت میں ایک بھی ایسا نہیں جس طرح اقبال نے مغرب کا مطالعہ کیا۔ اقبال کی تفہیم ملک میں کریں اور انہیں کلیت میں دیکھیں۔ ہمیں آج نہ اللہ ، نہ رسول ، نہ قرآن ، نہ اپنی زمین پر یقین رہا ہے۔ بنیاد کی طرف رجوع کا لفظ بار بار استعمال کرنا ہے۔ اللہ، رسول اور قرآن کی طرف رجوع کرنا ہی فکرِ اقبال کا پیغام ہے۔ اقبال نے جرات سے اپنا پیغام دیا ہے۔ اقبال نے رب الٰہی کی تفسیر لکھی۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اقبال کوخراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اقبال کے تصورِ پاکستان کو سمجھیں ۔آج کا عہد یہی ہے کہ اقبال کے فرمودات پر عمل کریں۔ اقبال نے 100سال قبل پنجاب کی مجلس دستو ر ساز میں زمینداروں پر ٹیکس لگانے کی بات کی تھی۔ اقبال نے عوام کی حاکمیت اور حکومت کی بات کی تھی۔جاگیرداری ختم کرنا ہوگی۔ اقبال کے انقلابی افکار کو اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں۔ شاندار ماضی کی روشنی میں مستقبل کو سنوارنے کی بات اقبال نے کی تھی۔ پامال مخلوق کو نجات دلانا پیغام اقبال ہے۔ اسلم کمال نے کہا کہ علامہ اقبال مصورِ پاکستان، مفکر پاکستان ہیں۔ کلامِ اقبال سے پاکستان کا جغرافیہ نکلا لیکن علامہ اقبال کا اقبالی معاشرہ ہنوز کتاب میں قید ہے۔ اقبال کا تصور تو سنا مگر اقبال جو معاشرہ چاہتے تھے وہ ابھی نہیں بنا۔ یوسف شاہین نے کہا کہ شاعر ِ مشرق مسلم اُمہ کی سابقہ عظمت ، شان و شوکت کا ریوائیول چاہتے تھے۔ اسے لوٹانے کے لےے علمی اور ادبی محاذ پر جنگ کی۔ یوسف گچکی نے کہا کہ بچپن سے اقبال کا مطالعہ کیا ہے اور وہ دور علامہ اقبال سے پہچاناجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ اقبال اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اقبا ل نظام اور سماج کے خلاف تھے۔ اقبال کے فکر اور فلسفہ کو معاشرے میں پھیلایا جائے اور بتایا جائے کہ اقبال کی تعلیمات کیا ہیں ، اس علاقے اور ملک کو کس انداز سے دیکھنا چاہتے تھے۔ پروفیسر گوہر نوید نے کہا کہ علامہ اقبال کی حیثیت اس دیدور کی سی ہے جسے ربّ کعبہ نے برصغیر کے مسلمانوں کی لاتعداد دعاﺅں کے بعد اس چمن کی آبیاری کے لےے جنم دیا۔ اقبال کی شاعری برصغیر کے جس دور میں پروان چڑھی وہ بلا شبہ ایک پر آشوب دور تھا۔برصغیر کی سیاسی و سماجی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے اقبال نے جہاں مسلمانوں کی پستی و جہالت ، گمراہی و بے یقینی، خود غرضی و نفس پرستی اور تقدیر پرستی و بے عملی کو حرف تنقید بنایاوہاں خود گری و خودشناسی اور حریت و آزادی کا سبق دیتے ہوئے ملک کے سارے باشندوں کو بلا امتیاز مذہب و مسلک یکساں اہمیت دی۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، چےئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ”پانچ روزہ تقریبات بسلسلہ یوم اقبال “میں ہونے والی تقریبات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تقریبات میں مذاکرہ ، گوشہ ذکر اقبال، علامہ اقبال اور پاکستانی زبانیں،کتاب میلہ، بچوں کا اقبال ، اقبال کے حوالے سے تصویری وخطاطی نمائش ، لکی بک ڈرا، علامہ اقبال اور فنون لطیفہ شامل ہیں۔

Comments are closed.