تقریب”اہل قلم سے ملیے“کے تحت حسن عباس رضا کے ساتھ ملاقات



اسلام آباد (پ ر) پاکستان سے عشق کی حد تک پیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر حسن عباس رضا نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ”اہل قلم سے ملیے“ میں کیا۔ پروفیسر فتح محمد ملک ، افتخار عارف ،ڈاکٹر انعام الحق جاوید، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان، نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی اہل قلم اور دیگر احباب نے سوالات کیے۔ حسن عباس رضا نے کہا کہ میری غزل میں دو رنگ بہت نمایاں ہیں۔ رومانویت اور احتجاج، لاشعوری یا شعوری طور پر کوشش کرتا ہوں کہ غزل میں میرا رنگ منفرد اور جداگانہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ شاعری میں میرا کوئی باضابطہ استاد نہیں ہے، تاہم بڑے شعراءکی صحبت میں رہ کر ان سے بہت کچھ سیکھا۔ غزل میری پسندیدہ صنفِ سخن ہے تاہم نظمیں بھی بہت لکھی ہیں۔ نظریاتی طور پر بائیں بازو سے تعلق ہے اور لبرل سوچ کا حامل ہوں۔ 10سال امریکہ میں رہا،مگر میری ہر شام اور صبح اپنے وطن کی یاد میں بسر ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے بانی اراکین میں سے ہوں۔ ضیاءالحق کے مارشل لاءکے خلاف نظمیں لکھیں اور اپنے رسالے ”خیابان“ میں شائع کیں جس کی پاداش میں پابندِ سلاسل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ1951کو راولپنڈی میں پیدا ہوا،اور ےہیںسے تعلیم حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے لٹریچر میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ شاعری کا آغاز 1972میں کیا۔1985میں میری پہلی کتاب شائع ہوئی جس کانام ”خواب عذاب ہوئے“ تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لےے گیت، ڈرامے اور سکرپٹ لکھے۔ اسٹیج ڈرامے لکھے اور اُن کو ڈائریکٹ بھی کیا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں 32برس تک ملازمت کی ۔ بطور ڈائریکٹر پرفارمنگ آرٹس نمایاں خدمات سرانجام دیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک میری شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ افسانوں ، شاعری ، ڈراموں اور یادداشتوں پر مبنی میری 12کتب شائع ہو چکی ہیں۔ میری کلیات”آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہےے“ زیر طبع ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاید ، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ حسن عباس رضا ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، ڈرامہ نگار اور منجھے ہوئے ہدایت کار بھی ہیں۔ نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں بطور ڈائریکٹر پرفارمنگ آرٹس، اُن کی خدمات قابل ِ ستائش ہیں۔ اُن کی شاعری رومانیت اور مزاحمت کا حسین مرقع ہے۔ افتخار عارف نے کہا کہ حسن عباس ر ضا غزل کے بہت اچھے شاعر ہیں ، اُن کی شاعری میں محبت اورمزاحمت کے عناصر فطری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسن عباس رضا عملی زندگی میں دُکھ سہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ ملنسار، شائستہ مزاج اور خوش گفتار انسان ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ میں نے حسن عباس رضا کو قریب سے دیکھا اور جانا ہے۔ وہ انتہائی بہادر انسان ہیں ۔ مارشل لاءکے دور میں انہوں نے جو دکھ برداشت کےے ہیں یہ اُن کا حوصلہ ہے۔

Comments are closed.